کچھ عرصہ پہلے لاہور کے ایک انگلش میڈیم سکول میں
او لیول کے بچوں کو اسلامیات پڑھانے کا اتفاق ہوا مگر یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ
زیادہ تر بچوں کو صحیح طرح آیۃ الکرسی بھی نہیں پڑھنی آتی اور اُس سے بھی بڑھ کر
حیرانی کی بات یہ کہ آکسفورڈ یونیورسٹی نے ایسے بچوں کے لئے نصاب میں جنگ جمل اور
جنگ صفین جیسے واقعات کو شامل کررکھا ہے جن کو دین کی مبادیات کے بارے میں بھی علم
نہیں۔
غالباً یہ وہی مستشرقین کا مرتب کردہ اور Orientalist approach کے تحت وضع کردہ اسلامیات کا نصاب ہے جسے پڑھنے والے مسلمان طالب علم قرآن، حدیث، فقہ، اصول فقہ، شریعت، عشرہ مبشرہ جیسی اصطلاحات سے تو ناواقف رہتے ہیں البتہ جنگ جمل، جنگ صفین، شیعان علی و شیعان عثمان اور مشاجرات صحابہ کے بارے میں اُن بچوں کی معلومات میں خوب اضافہ کیا جاتا ہے۔ اور اُوپر سے اگر اس ملک کے پوش سکولوں میں او۔لیول اسلامیات پڑھانے والے اساتذہ کی ایک خاطر خواہ تعداد رافضیت سے تعلق رکھتی ہو تو پھر سونے پر سہاگہ ہوگیا کیونکہ پھر ایسے اساتذہ کو صحابہ کرام ؓ اور تاریخ اسلام کے بارے میں کیچڑ اچھالنے اور اُن معصوم بچوں کے ذہنوں کو اسلام کی اُن جلیل القدر ہستیوں کے بارے میں پراگندہ کرنے کا بھرپور موقع میسر آتا ہے ۔
پھر انہی سکولوں سے پڑھ کر نکلنے والے مسلمان بچے آپ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ جناب آپ کس اسلام کی تاریخ کی بات کرتے ہیں؟؟ اسلام کی پوری تاریخ تو بنو امیہ اور بنو عباس کی باہمی لڑائیوں سے بھری پڑی ہے۔ محمد بن قاسم تو معاذ اللہ ایک لٹیرا تھا جو راجا داہر کی دولت لوٹنے یہاں آیا تھا اور صلاح الدین ایوبی وہ تو خود سیکولر تھا۔ اور سلطان محمود غزنوی وہ تو ہندوستان آیا ہی اس لئے تھا کہ اس کی نظریں سومنات کے مندر کے سونے و جواہرات پر تھی۔ ٹھیک ہے عبد الرحمٰن الداخل نے اندلس میں اسلامی سلطنت قائم کی تھی مگر اسے اسلام سے تو کوئی دلچسپی نہیں تھی اور جہاں تک سائنس کا معاملہ ہے تو اول تو مسلمانوں کی اس میں کوئی خاطر خواہ contribution ہی نہیں اور جن مسلمان سائنسدانوں نے کچھ کام بھی کیا وہ درحقیقت دین بیزار اور لبرل تھے۔ اچھا ساری باتیں چھوڑیں آپ مجھے پوری اسلامی تاریخ میں کوئی ایک بڑی شخصیت دکھلا دیں۔
وہ الگ بات ہے کہ اسلام کی پوری تاریخ پر عبور رکھنے والے مسلماںوں کے ان بچوں نے شاید کبھی تاریخ ابن کثیر، تاریخ طبری، تاریخ ابن ہشام یا اس جیسی دیگر تاریخ اسلامی کی کُتب کا نام تک نہیں سنا ہوتا کیونکہ اُن کے نزدیک تو اولاً یہ کتابیں تو اردو میں لکھی گئی ہیں اور اْردو کوئی زبان تھوڑی ہے۔ اس اُردو نے تو اگلے سو سالوں میں ویسے ہی دنیا سے ختم ہوجانا ہے اوراس کے علاوہ مسلمان مورخین بڑے جانبدار biased ہوتے ہیں ہاں البتہ Orientalists کی تاریخ اسلام کے بارے میں لکھی گئی کتب کافی حد تک معتبر reliable ہوتی ہیں۔
کسی بھی قوم کے لئے اس سے بڑھ کر فکری غلامی intellectual slavery نہیں ہو سکتی کہ اگر اس نے اپنی تاریخ کا بھی مطالعہ کرنا ہو تو وہ اپنوں کی کتابوں کی بجائے غیروں کی کتابوں سے کرے۔
غالباً یہ وہی مستشرقین کا مرتب کردہ اور Orientalist approach کے تحت وضع کردہ اسلامیات کا نصاب ہے جسے پڑھنے والے مسلمان طالب علم قرآن، حدیث، فقہ، اصول فقہ، شریعت، عشرہ مبشرہ جیسی اصطلاحات سے تو ناواقف رہتے ہیں البتہ جنگ جمل، جنگ صفین، شیعان علی و شیعان عثمان اور مشاجرات صحابہ کے بارے میں اُن بچوں کی معلومات میں خوب اضافہ کیا جاتا ہے۔ اور اُوپر سے اگر اس ملک کے پوش سکولوں میں او۔لیول اسلامیات پڑھانے والے اساتذہ کی ایک خاطر خواہ تعداد رافضیت سے تعلق رکھتی ہو تو پھر سونے پر سہاگہ ہوگیا کیونکہ پھر ایسے اساتذہ کو صحابہ کرام ؓ اور تاریخ اسلام کے بارے میں کیچڑ اچھالنے اور اُن معصوم بچوں کے ذہنوں کو اسلام کی اُن جلیل القدر ہستیوں کے بارے میں پراگندہ کرنے کا بھرپور موقع میسر آتا ہے ۔
پھر انہی سکولوں سے پڑھ کر نکلنے والے مسلمان بچے آپ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ جناب آپ کس اسلام کی تاریخ کی بات کرتے ہیں؟؟ اسلام کی پوری تاریخ تو بنو امیہ اور بنو عباس کی باہمی لڑائیوں سے بھری پڑی ہے۔ محمد بن قاسم تو معاذ اللہ ایک لٹیرا تھا جو راجا داہر کی دولت لوٹنے یہاں آیا تھا اور صلاح الدین ایوبی وہ تو خود سیکولر تھا۔ اور سلطان محمود غزنوی وہ تو ہندوستان آیا ہی اس لئے تھا کہ اس کی نظریں سومنات کے مندر کے سونے و جواہرات پر تھی۔ ٹھیک ہے عبد الرحمٰن الداخل نے اندلس میں اسلامی سلطنت قائم کی تھی مگر اسے اسلام سے تو کوئی دلچسپی نہیں تھی اور جہاں تک سائنس کا معاملہ ہے تو اول تو مسلمانوں کی اس میں کوئی خاطر خواہ contribution ہی نہیں اور جن مسلمان سائنسدانوں نے کچھ کام بھی کیا وہ درحقیقت دین بیزار اور لبرل تھے۔ اچھا ساری باتیں چھوڑیں آپ مجھے پوری اسلامی تاریخ میں کوئی ایک بڑی شخصیت دکھلا دیں۔
وہ الگ بات ہے کہ اسلام کی پوری تاریخ پر عبور رکھنے والے مسلماںوں کے ان بچوں نے شاید کبھی تاریخ ابن کثیر، تاریخ طبری، تاریخ ابن ہشام یا اس جیسی دیگر تاریخ اسلامی کی کُتب کا نام تک نہیں سنا ہوتا کیونکہ اُن کے نزدیک تو اولاً یہ کتابیں تو اردو میں لکھی گئی ہیں اور اْردو کوئی زبان تھوڑی ہے۔ اس اُردو نے تو اگلے سو سالوں میں ویسے ہی دنیا سے ختم ہوجانا ہے اوراس کے علاوہ مسلمان مورخین بڑے جانبدار biased ہوتے ہیں ہاں البتہ Orientalists کی تاریخ اسلام کے بارے میں لکھی گئی کتب کافی حد تک معتبر reliable ہوتی ہیں۔
کسی بھی قوم کے لئے اس سے بڑھ کر فکری غلامی intellectual slavery نہیں ہو سکتی کہ اگر اس نے اپنی تاریخ کا بھی مطالعہ کرنا ہو تو وہ اپنوں کی کتابوں کی بجائے غیروں کی کتابوں سے کرے۔
No comments:
Post a Comment