امام ابن حزم اپنی مشہور تصنیف
‘الاخلاق و السیر فی مداواۃ النفوس’ میں
لکھتے ہیں کہ
میں نے اس چیز کو تلاش کرنے کی بڑی کوشش و جستجوکی ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے
تمام انسان کوشش کررہے ہیں اور بڑی سوچ بچار کے بعد میں اسی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ
وہ ایک ہی چیز ہے اور وہ ہے ‘غموں سے نجات’۔
جب میں نے اس پر مزید غور و فکر کیا
تو معلوم ہوا کہ ہر انسان چاہے وہ
عالم ہو،جاہل ہو، نیک ہو یا بد ہو، سب اس
میں یکساں ہیں اور ان کی تمام تر محنت، جدوجہد اور کوشش صرف اسی
ایک مقصد کے لئے ہے کہ وہ اپنے آپ کو غموں، فکروں، پریشانیوں اور تفکرات سے دور
رکھ سکیں البتہ لوگ اس کے لئے مختلف طریقے اختیار کرتے ہیں اور زیادہ تر لوگ اس سلسلے میں سیدھے راستے سے
بھٹکے ہوئے ہیں اور بہت تھوڑی تعداد میں لوگ ایسے ہیں جو
اپنے آپ کو ان ‘تفکرات سے نجات’ حاصل کرنے کے لئے راہ راست پر ہیں۔
چنانچہ لوگ دولت کی خاطر اسی لئے تگ و دو کرتے ہیں تاکہ وہ اس کے ذریعے اپنے
دلوں سے غربت کی پریشانیوں کو دور کریں۔ شہرت کے متلاشیوں نے شہرت کی طلب اس لئے
کی کہ وہ اس کے ذریعے اپنے احساس محرومی
کو ختم کرسکیں۔ لذتوں کے متلاشیوں نے اسے اس لئے تلاش کیا کہ وہ ان کے ذریعے
اپنےدلوں پر چھائی ہوئی فکر کا ازالہ کرسکیں۔ علم کی راہ میں نکلنے والے بھی اسی لئے اٹھے
کہ وہ علم کے ذریعے اپنی فکر کو دور کرسکیں۔طرح
طرح کے اعلٰی کھانے اور مشروبات پینے
والے، شادی بیاہ کرنے والے، ورزش کرنے اور کھیلیں کھیلنے والے، تنہائی اختیار
کرنیوالے، سب لوگوں نے یہ کام اس لئے کئے کہ وہ فکروں اور پریشانیوں کو اپنے آپ
سے ہٹا سکیں۔
امام ابن حزم رحمہ اللہ مزید لکھتے ہیں کہ جب اللہ رب العزت نے مجھے اس بات تک
پہنچا دیا کہ اس دنیا میں ہر انسان صرف
اسی ‘ذہنی سکون’ کو حاصل کرنے کے لئے تگ و دو کررہا ہے تو پھر مجھے اس بات کی فکر
ہوئی کہ آخر اس کی اصل راہ ہے کیا؟ بڑے غورو حوض کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ وہ راستہ ’اللہ کی رضا کی خاطر آخرت کے لئے کام‘
کرنے کے علاوہ اور کوئی نہیں۔
میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ جس شخص کی زندگی کا مقصد محض آخرت کے لئے عمل
کرنا ہو تو ایسا شخص اس راہ میں اگر کسی ناپسندیدہ چیز میں مبتلا ہوجائے تو وہ غم
زدہ ہونے کی بجائے مزید خوش ہوتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس پریشانی کو اپنے مقصد کے حصول کی خاطر اٹھا رہا
ہےاس لئے یہ پریشانی اس کے لئے مزید خوشی
کا باعث ہوتی ہے۔
مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ اگر ایسے شخص کو اللہ کی رضا کی خاطر آخرت کے لئے
کوشش و تگ و دو کرنے کی راہ میں لوگوں کی
طرف سے کوئی تکلیف یا دکھ پہنچایا جائے تو وہ
اس کام میں مزید لذت اور سرور محسوس کرتا ہے اور اگر وہ تھک جائے تو
وہ فرحت و خوشی محسوس کرتا ہے
گویا اس دنیا وی زندگی میں صرف اور صرف اللہ کی رضا کی خاطر اخروی زندگی کے
لئے کام کرنے والاشخص ہی ایسا واحد فرد
ہوتا ہے جو مسلسل اور دائمی خوشی میں رہتا ہے
جبکہ باقی تمام لوگوں کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔
No comments:
Post a Comment