Wednesday, October 22, 2014

نماز فجر کے لئے کیسے اٹھا جائے؟

اگر ہم اپنے اردگرد مساجد کا جائزہ لیں تو  ہم اس بات کا آسانی سے مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ مختلف اوقات اور نمازوں میں باجماعت نماز پڑھنے والوں کی تعداد مختلف ہوتی ہے۔ عمومی طور پر پنجگانہ نمازوں میں  مغرب کی نماز میں نمازیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوتی ہے جبکہ سب سے کم تعدادنماز فجر میں ہوتی ہے ۔ موجودہ دور کی شہری زندگی میں تو یہ مسئلہ اور بھی زیادہ سنگین ہے کیونکہ شہروں میں لوگوں کی  اکثریت نماز عشا کے بعد بھی دیر تک جاگتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے صبح نماز فجر کے لئے اٹھنا مشکل ہوتا ہے۔ کیا آپ کی زندگی میں کبھی ایسا واقعہ پیش آیا ہے کہ آپ پختہ ارادہ کرکے سوئیں کہ آپ نے صبح نماز فجر کیلئے اٹھنا ہے یا آپ کو پورا یقین ہو کہ آپ نماز فجر مسجد میں با جماعت ادا کرسکیں گے ۔ تھوڑی دیر کیلئے اپنی زندگی کے دو مناظر کے بارے میں تصور کیجیے کیونکہ یقینا ہم میں سے ہر ایک کی زندگی میں یہ دو مناظر ضرور واقع ہوئے ہوں گے۔
پہلا منظر
آپ کا ایمان اور تقوی اللہ کے فضل سے بہت زیادہ بڑھا ہوا ہے ۔ آپ نے نماز عشا ادا کرنے کے بعد کچھ دیر قرآن بھی پڑھا اور آپ کو پختہ یقین ہے کہ آپ صبح فجرکی نماز کے لئے اٹھ جائیں گے کیونکہ آپ ذہنی، جسمانی اور روحانی طور پراس کے لئے بالکل تیار ہیں بلکہ بعض اوقات تو آپ رات کو کئی مرتبہ اس ڈر سے اٹھے ہوں کہ کہیں فجر کی باجماعت نماز آپ سے رہ نہ جائے۔ اگر آپ کو اس طرح کا کوئی تجربہ پہلے کبھی نہیں ہوا تو پھرذرا اس بات  کا تصور کیجیے کہ جب آپ نے صبح جلدی اٹھ کر کوئی فلائٹ پکڑنا ہو یا کسی بس پر سوار ہونا ہو تو یقینا اکثر و بیشتر آپ اٹھ جاتے ہیں، چاہے آپ کتنی دیر سے ہی کیوں نہ سوئے ہوں۔ پھر نماز فجر باجماعت ادا کرنے کے بعد انسان سارا دن ہشاش بشاش گزرتا ہے  کیونکہ نماز فجر باجماعت ادا کرنے سے ایک انسان کوخوشی کا احساس ہوتا ہے۔
دوسرا منظر
پہلےمنظر کے برعکس آپ کی زندگی میں اکثر ایسا بھی ہوتا  ہوگا کہ آپ باوجود بہت کوشش کرنے کے صبح نماز  فجر کے لئے اٹھ نہ سکے ہوں اور پھر دن چڑھے لیٹ سو کر اٹھنے اور نماز فجر کو باجماعت نہ پڑھ سکنے پر آپ کو افسوس بھی ہوا ہوگا۔ یا بالفرض آپ الارم کی وجہ سے صبح وقت پر اٹھ بھی گئے ہوں مگر  snooze کا بٹن دباکر پھر سوگئے ہوں یا پھر شیطان نے آپ کو یہ بہلا کر دوبارہ سلادیا ہوکہ’بس پانچ منٹ اور‘۔
ہم میں سے ہر کوئی یہی چاہتا ہے کہ ہرروز اس کی زندگی میں پہلا منظر ہی دہرایا جائے۔ یہاں ہم کچھ عملی طریقے بیان کریں گے جن پر عمل کرکے ان شاء اللہ روزانہ فجر کی نماز کے لئے اٹھا جا سکتا ہے۔ مگر ان طریقوں کو یہاں بیان کرنے کا مقصد صرف ان کو پڑھ لینا ہی نہیں بلکہ ان کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا ہے۔
۱۔ پختہ نیت رکھیے
سب سے اہم اور ضروری بات جو نماز فجر کو باجماعت اداکرنے کے لئے ضروری ہے وہ پختہ نیت اور ارادہ ہے اگر آپ کی نیت پختہ نہیں تو آپ جو مرضی کرلیں آپ نماز فجر کے لئے نہیں اٹھ سکتے۔ یہ ہماری نیت اور ارادے کی کمزوری  ہی ہوتی ہے کہ ہم باوجود ہزار کوشش کے نماز فجر کے کئے نہیں اٹھ پاتے۔ رات کو سونے سے پہلے خلوص دل سے یہ نیت کریں کہ میں نے ان شااللہ صبح اٹھ کر نماز فجر باجماعت ادا کرنی ہے۔ اور اپنے آپ سے یہ عہد کرکے سوئیں۔
۲۔  وضو ، تلاوت قرآن اور مسنون اذکار کا اہتمام کیجیے
اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ رات کو قرآن پڑھے بغیر نہ سوئیں۔ کوشش کریں کہ سونے سے پہلے کم از کم دو رکوع ضرور پڑھیں اس سے آپ کو نماز فجر کے لئے اٹھنے میں بڑی مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ رات کو سونے سے پہلے ایسے اذکار، جو کسی صحیح حدیث میں بیان ہوئے ہوں،  کا ورد بھی اپنی روزانہ کی روٹین کا حصہ بنائیں۔  کوشش کیجیے کہ سونے کے وقت کی مسنون دعائیں کو ترجمے سمیت کسی ڈائری میں لکھ کر سوتے  وقت اپنے ساتھ رکھیں اور پڑھتے ہوئے ترجمہ پر بھی غور فرمائیے۔ ان شا اللہ ایک یا دو ہفتوں میں یہ اذکار آپ کو ترجمے سمیت مکمل یاد ہوجائیں گے۔سونے کی بعض مسنون دعائیں  اور ان کا ترجمہ یہاں سرخ الفاظ میں دیا گیا ہے:
حدثنا مسدَّد: حدثنا عبد الواحد بن زياد: حدثنا العلاء بن المسيَّب قال: حدثني أبي، عن البراء بن عازب قال:  كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أوى إلى فراشه نام على شقه الأيمن، ثم قال: (اللهم أسلمت نفسي إليك، ووجهت وجهي إليك، وفوضت أمري إليك، وألجأت ظهري إليك، رغبة ورهبة إليك، لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك، آمنت بكتابك الذي أنزلت، ونبيك الذي أرسلت). وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (من قالهن ثم مات تحت ليلته مات على الفطرة).
حضرت براء بن عاذب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر تشریف لاتے تو دائیں کروٹ پر لیٹتے اور عرض کرتے: ’’اے اللہ! میں آپ کا اپنی جان سمیت فرمانبردار بنتا ہوں۔ اپنے چہرے کا رخ آپ ہی کی جانب کرتا ہوں۔ اپنے معاملے کو آپ کی طرف سپرد کرتا ہوں۔ اپنی کمر کو  آپ [کے دین کی] خدمت کے لیے تیار کرتا ہوں۔ آپ کی جانب رغبت اور خوف رکھتا ہوں کہ آپ کے سوا نہ تو کوئی ایسا ہے جس کے سپرد خود کو کیا جائے اور نہ ہی آپ کے سوا کوئی نجات دینے والا ہے۔ میں آپ کی نازل کردہ کتاب اور آپ کے بھیجے ہوئے نبی  [کی نبوت] پر پر ایمان رکھتا ہوں۔ ‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے یہ بات کہی اور پھر رات میں وفات پا گیا تو وہ فطرت پر فوت ہوا۔‘‘(بخاری۔ کتاب الدعوت۔ حدیث 5956)
حدثنا عثمان بن أبي شيبة وإسحاق بن إبراهيم - واللفظ لعثمان - (قال إسحاق: أخبرنا. وقال عثمان: حدثنا) جرير عن منصور، عن سعد بن عبيدة. حدثني البراء بن عازب؛  أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال "إذا أخذت مضجعك فتوضأ وضوءك للصلاة. ثم اضطجع على شقك الأيمن. ثم قل: اللهم! إني أسلمت وجهي إليك. وفوضت أمري إليك. وألجأت ظهري إليك رغبة ورهبة إليك. لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك. آمنت بكتابك الذي أنزلت. وبنبيك الذي أرسلت. واجعلهن من آخر كلامك. فإن مت من ليلتك، مت وأنت على الفطرة".
برا بن عازب رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب آپ بستر پر لیٹیں تو نماز کی طرح کا وضو کر کے دائیں کروٹ پر لیٹیں اور عرض کیجیے: ’اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ آپ کی جانب جھکا دیا ہے اور اپنے معاملے کو آپ کے سپرد کر دیا ہے اور خود کو کو آپ کی رغبت اور خوف کے لیے کمر بستہ کر لیا ہے۔ آپ کے سوا نہ تو کوئی اعتماد کا سہار ا ہے اور نہ آپ [کے عذاب سے] نجات دینے والا۔  میں آپ کی نازل کردہ کتاب پر ایمان لایا اور آپ کے بھیجے نبی پر بھی۔‘ اس دعا کو [سونے سے پہلے] اپنا آخری کلام بنا لیجیے۔ اگر آپ اس رات فوت ہو گئے تو آپ دین فطرت پر ہوں گے۔‘‘  (مسلم۔ کتاب الذکر و الدعا و التوبہ و الاستغفار۔ حدیث 2710)
حدثنا أبو نُعَيم: حدثنا سفيان، عن عبد الملك بن عمير، عن ربعي بن حراش، عن حذيفة قال:  كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أراد أن ينام قال: (باسمك اللهم أموت وأحيا). وإذا استيقظ من منامه قال: (الحمد الله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور).
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو عرض کرتے: ’’اے اللہ! میں آپ کے نام ہی کے ساتھ مرتا اور جیتا [یعنی سوتا اور جاگتا ] ہوں۔‘‘ جب آپ نیند سے بیدار ہوتے تو فرماتے: ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں موت کے بعد زندگی دی اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ ‘‘ (بخاری۔ کتاب الدعوت۔ حدیث 5965۔ مسلم، حدیث 2711)
حدثنا عقبة بن مكرم العمي وأبو بكر بن نافع. قالا: حدثنا غندر. حدثنا شعبة عن خالد. قال: سمعت عبدالله بن الحارث يحدث عن عبدالله بن عمر؛ أنه أمر رجلا، إذا أخذ مضجعه، قال "اللهم! خلقت نفسي وأنت توفاها. لك مماتها ومحياها. إن أحييتها فاحفظها، وإن أمتها فاغفر لها. اللهم! إني أسألك العافية" فقال له رجل: أسمعت هذا من عمر؟ فقال: من خير من عمر، من رسول الله صلى الله عليه وسلم.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو تلقین کی کہ جب وہ سونے کے لیے لیٹیں تو کہیں: ’’اے اللہ! آپ نے میری جان کو تخلیق فرمایا اور آپ  ہی اسے موت دیں گے۔ اس کی موت اور زندگی آپ کے ہاتھ ہی میں ہے۔  اگر آپ اسے زندگی دیجیے تو اس کی حفاظت فرمائیے اور اگر موت دیجیے تو اسے معاف کر دیجیے۔ اے اللہ! میں آپ سے عافیت مانگتا ہوں۔‘‘
ان صاحب نے ابن عمر سے پوچھا: ’’کیا آپ نے اسے حضرت عمر سے سنا ہے؟‘‘ انہوں نے فرمایا: ’’میں نے ان سے سنا ہے جو عمر سے بہتر ہیں، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ ‘‘ (مسلم۔ کتاب الذکر و الدعا و التوبہ و الاستغفار۔ حدیث 2712)
سوتے جاگتے ہمیں ان دعاؤں کو سمجھ کر پڑھنا چاہیے۔
۳۔ نماز فجر کی فضیلت و اہمیت یاد کیجیے
کتب احایث میں نماز فجر کو باجماعت وقت پار ادا کرنے کی جو فضیلت اور اجر و ثواب بیان کیا گیا ہے اسے اپنے ذہن میں رکھیے۔ان تمام باتوں کا اہتمام  کرلینے کے بعد اب  آخری کام  نماز فجر کے لیے دعا کا اہتمام کرنا ہے۔ کوئی بھی انسان اللہ کی مدد اور توفیق کے بغیر کوئی بھی عمل نہیں کرسکتا ۔  لہذٰا اب اللہ تعالٰی سے مدد کی درخواست کیجیے کہ وہ آپ کو نماز فجر باجماعت ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ انسان کے دماغ میں ایک لمحے کے لئے بھی یہ خیا ل نہ آے کہ وہ نیکی کا کوئی کام اپنے بل بوتے پر بھی کرسکتا ہے اور ہر عمل کے لئے اسے ہر وقت اللہ کی مدد درکار ہے اور یہ کہ اس کا نما ز فجر کے لئے اٹھنا بھی اللہ کی مدد اور توفیق کے ساتھ ہی ہوگا جس میں اس کا کوئی کمال نہیں۔
ابھی تک ہم نے یہاں جو بھی طریقے بیان کیے ہیں وہ سب قرآن و سنت سے ماخوذ ہیں البتہ اب ہم یہا ں کچھ دوسرے عملی طریقے جو نماز فجر کے لئے اٹھنے کے لئے انتہائی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
۴۔ کسی قریبی عزیز یا دوست کی مدد حاصل کریں
یہ صبح کی نما کے لئے اٹھنے کا سب سے موثر طریقہ ہے ۔ اپنے کسی قریبی دوست، رشتہ دار،ماں باپ یا شریک حیات کو آپ کو صبح اٹھا نے کا کہیں اور اگر آپ ان سے پہلے اٹھ جائیں تو انہیں بھی نماز فجر کے لئے اٹھا ئیے  اور اپنی نماز کے ساتھ ساتھ ان کی نماز کا بھی اجر حاصل کیجیے۔
۵۔ الارم ڈیوائس کو کسی مناسب جگہ رکھیں
ایک اور نہایت موثر طریقہ جو نماز فجر کے لئے بیدار ہونے کےلئے نہایت مددگار ہوسکتا ہے ، وہ الارم والی گھڑی یا موبائل فون کو کسی ایسی جگہ رکھنا ہے جو آپ کے بستر سے قدرے دور ہو اور جس کو بند کرنے کے لئے آپ کو بستر  کو چھوڑ کر اٹھ کر جانا پڑے۔ میرے لئے صبح کے وقت بیدار ہونے کا ایک نہایت موثر طریقہ،  جو ہمیشہ کام کرتا ہے وہ یہ ہے کہ میں اپنے الارم کو باتھ روم میں  الارم کو بیسن  کے ساتھ شیلف پر رکھ دیتا ہوں اور جب میں الارم بند کرنے کے لئے صبح اٹھتا ہوں تو اپنے آپ کو بیسن کے سامنے پاتا ہوں،  بس اب کیا مزید سونا  اب وضو کیا اور نماز کے لئے تیاری شروع۔
۶۔ نماز سے تھوڑی دیر پہلے جاگیے
نماز فجر سے صرف اتنی دیر پہلے جاگنے کی کوشش کریں جس میں آپ وضو کرکے مسجد پہنچیں اور باجماعت نماز میں شامل ہوسکیں ۔ عمومی طور پر اگر آپ  تکبیر اولیٰ سے بس 10-15 منٹ پہلے اٹھیں تو بآسانی نماز میں شامل ہو سکتے ہیں۔
۷۔ دوپہر کو قیلولہ کیجیے
دوپہر کو تھوڑی دیر کے لئے قیلولہ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سلف صالحین سے بھی ثابت ہے اور  یہ بھی صبح بیداری کے لئے نہایت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔  اس کے لئے بس تھوڑی سی پریکٹس کی ضرورت ہوگی لیکن اگر اس عادت کو اختیار کر لیا جائے تو یہ صبح بیداری کے لئے بڑی مددگار ثابت ہوگی۔
۸۔ اپنے آپ کو انعام دیں یا جرمانہ عائد کریں
اپنے ٹارگٹ خود سیٹ کیجیے اور اپنی مدد خود کرنا سیکھیے۔ اگر یہ سب اوپر بیان کئے گئے طریقے کارگر ثابت ہوتے ہیں تو اپنے آپ کو کوئی انعام  دیجیے اور اپنی کامیابی اور اس معاملے میں خوشی کو سیلی بریٹ کیجیے۔ اگر کبھی آپ  نماز فجر کے لئے اٹھنے میں ناکام رہیں تو اپنے آپ پر جرمانہ عائد کیجیے۔ مثال کے طور پر ایک مخصوص رقم اللہ تعالی کی راہ میں کسی مستحق غریب (پروفیشنل بھکاری نہیں) کو دیجیے اور اگلی صبح نئے جذبے کے ساتھ صبح سویرے بدار ہونے کی تیاری کیجیے۔

Tuesday, October 14, 2014

ہمارا تعلیمی نظام



ارسطو کے نزدیک تعلیم کے تین بنیادی مقاصد ہیں
۱۔ زندگی کے مقصد purpose of life ور کائنات کی حقیقت  کو جاننا
۲۔ اپنے اخلاق کو سنوارنا اور بہتر انسان بننا
۳۔ تعلیم کے ذریعے دنیاوی زندگی میں آگے بڑھنا اور ترقی کرنا
اب موجودہ دور میں ہمارے تعلیمی اداروں میں رائج  نظام تعلیم میں پہلے دو  مقاصد تو سرے سے ہی نہیں پائے جاتے یعنی  ہمارےطالب علم کونہ تو  یہ بتایا جاتا ہے کہ اس کی زندگی کا  آخر مقصد کیا ہے اور  اور نہ ہی اس  کو اخلاقیات کے حوالے سے کوئی تعلیم  دی جاتی  ہے تاکہ وہ ایک بہتر انسان بن سکے اور معاشرے میں کوئی مفید کردار ادا کرسکے۔  البتہ ان تعلیمی اداروں میں صرف تیسرے مقصد پر توجہ دی جاتی ہے کہ  کیسے اس تعلیم کے ذریعے دنیاوی زندگی میں آگے بڑھا جائے اور زیادہ پیسے کمائے جائیں نتیجتاً ہمارے یہ تعلیمی ادارے  ایسے افراد پیدا کررہے ہیں جن کے نزدیک  زندگی کا واحد مقصد اسی دنیا کی زندگی اور یہیں کی ترقی و خوشحالی ہے یعنی ایسے مادہ پرست  Materialistic لوگ جو اپنی زندگی کا واحد مقصد اسی دنیا کی زندگی کو بنائے ہوتے ہیں  اور اخلاقی لحاظ سے حد درجہ  متکبریعنی  Ego-Centric 
دراصل اسلام  کا اپنا  ایک نظریہ حیات
 Worldview  ہے جس میں اصل اہمیت دنیا کی زندگی کی بجائے آخرت کو حاصل ہے  جبکہ موجودہ سرمایہ دارانہ Capitalistic نظام کی بنیاد پر قائم ان تعلیمی اداروں میں جو تعلیم دی جاتی ہے اس کا اصل مقصد اسی دنیا کی مادی زندگی تک ہی محدود ہے۔     
دوسری طرف ہمارے دینی مدارس  کی اکژیت کا یہ معاملہ ہے کہ وہاں ایسے علماء پیدا کئے جاتے ہیں جن کے پاس دین کا علم اور فہم تو ہوتا ہے ہے لیکن ان میں تنگ نظری اور سخت گیری Rigidness  حد درجہ پائی جاتی ہے اوروہ  اپنے اپنے مسلک کی ترویج و اشاعت کو ہی دین کی خدمت سمجھتے ہیں ۔ ایسے علما ء کا تمام تر زور صرف اسلام کے فقہی معاملات پر ہوتا ہے جبکہ دین کے سیاسی، معاشی۔ معاشرتی اور نظریاتی پہلو   اُن کی نظروں سے عموماً     اوجھل ہوتے ہیں۔
اس لئے یہاں ایسے  تعلیمی نظام کی ضرورت  ہے جس میں دنیاوی کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کا بھی انتظام ہو ۔ جہاں پر کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والے طالب علم کو کم از کم دین کے مبادیات مثلاً قرآن، حدیث، فقہ، تفسیر ، اصول حدیث اور اصول تفسیر سے آگاہی ضرور ہو اور جن کے سامنے اسلام کا نظریہ حیات واضح ہو اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ایک طالب علم بھی دین کا علم حاصل کرنے کے لئے systematic study ویسے ہی کرے جیسے وہ دیگر علوم کی تحصیل کے لئے کرتا ہے مگر افسوس آج کا مسلمان تو دین کو موروثی سمجھتا ہے بس باپ دادا سے ورثے میں مل گیا ہے بس یہی کافی ہے چاہے بچپن میں ناظرہ قرآن ختم کرلینے کے بعد قرآن مجید کو کبھی دوبارہ کھول کر بھی نہ دیکھا ہو۔


Saturday, October 11, 2014

مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ میں مراسلت


اللہ رب العزت کی ہمیشہ سے یہی سنت رہی ہے کہ وہ عین کفر و الحاد اور شر ک کے بطن میں اپنے ایسے بندے پیدا کرتا ہے جو اسی کفر و شرک کے خلاف بغاو ت کے علم لے کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ تاکہ دنیا والوں پر یہ حجت تمام ہوجائے کہ اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں پر اپنے دین کا اتباع نہ کرنے کے لئے کوئی عذر باقی نہیں چھوڑا۔ چنانچہ کسی دور میں آزر کے گھر ابراہیم پیدا ہوتا ہے تو کبھی فرعون کے گھر میں آسیہ علیہ السلام موسیٰ ؑ پر ایمان لے آتی ہیں اور خود رسول اللہ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے جو اپنے دور میں شرک اور بت پرستی کا سب سے بڑا مرکز تھا اور پھر 20ویں صدی میں نیویارک کے ایک یہودی گھرانے میں مارگریٹ مارکس Margaret Marcus کے نام سے ایک ایسی لڑکی پیدا ہوتی ہے جو اس دور میں مغربیت سے مرعوب اور مغربی طوفان میں بہتے چلے جارہے مسلم نوجوانوں پر اللہ کی حجت تمام کرتی ہوئی نظر آتی ہے ایک ایسی یہودی لڑکی جو پیدا تو مغرب میں ہوئی لیکن اس کو مغربی لباس سے سخت نفرت تھی کیونکہ اسے اس مغربی لباس میں عورت کی تذلیل نظر آتی تھی جس کو مغربی اقدار سے نفرت تھی کیونکہ وہ خدا بیزاری پر مبنی ہیں۔ ایک ایسا جنسیت زدہ مغربی معاشرہ جہاں نوجوانی تک پہنچتے پہنچتےزیادہ تر لڑکیاں جنسی تجربات سے گزر چکی ہوتی ہیں وہاں یہ ایک ایسی لڑکی بھی تھی جس نے کسی کو بھی اپنا دوست نہیں بنایا۔ جس کو جدید طرز تعمیر architecture سے نفرت تھی کیونکہ اس کو یہ بلندو بالا عمارتیں روحانیت سے خالی نظر آتی ہیں۔ مغرب میں رہنے والی ایک ایسی یہودی لڑکی جو ابھی تک حلقہ بگوش اسلام نہیں ہوئی لیکن پھر بھی اپنی تحریروں میں ان تمام نام نہاد جدت پسند مسلمان علماء اور مفکرین کا بھرپور رد کرتی تھی جو اسلام کی ایک ایسی تعبیر پیش کرنا چاہتے ہیں جو مغربی تہذیب و اقدار سے ہم آہنگ ہو۔ ایک ایسے دور میں جہاں خود بہت سارے مسلمان مفکرین سیکولرازم کے داعی بن کر یہ بات ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ اسلام بھی دیگر مذاہب کی طرح افراد کا ذاتی معاملہ ہے وہاں مریم جمیلہ صاحبہ نے اپنے قبول اسلام سے پہلے ہی اپنی تحریروں کے ذریعے ان کا بھرپور رد کیا وہ اسلام کو بطور دین زندگی کے ہر شعبے میں اختیار کرنے کی پرجوش حامی تھیں۔ بے شک میر ا رب جس سے چاہتا ہے اپنے دین کا کام لے لیتا ہے۔
مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ (مارگیٹ مارکس) کے درمیان مراسلت نامی کتاب پڑھنے کا اتفاق ہوا تومحترمہ مریم جمیلہ کے بارے میں دل کی گہرائیوں سے یہ آواز نکلی کہ ایسا ہوتا ہے سلیم الفطرت انسان جو دنیا کے کسی بھی کونے میں کیوں نہ پیدا ہوا ہو لیکن بالآخر وہ حضرت سلمان فارسی ؓ کی طرح دین اسلام کو پا ہی لیتا ہے۔ اور ناصرف انہوں نے اسلام قبول کیا بلکہ اس عظیم صحابی رسولﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ہزاروں میل کا سفر ہجرت طے کرکے پاکستان بھی آ گئیں اور پھر جہاں مولانا مودودی رحمہ اللہ نے کہا وہاں جماعت کے ایک کارکن کی دوسری بیوی بننے پر خوشی خوشی راضی ہوگئیں۔اور وہ بھی کتنے اعلیٰ کردار کے لوگ تھے کہ محترمہ مریم جمیلہ لکھتی ہیں کہ وہ اپنی بڑی سوکن کو آپا کہہ کر بلایا کرتی تھیں اور وہ آپا بھی ان سے نہایت محبت کرنے والی تھیں۔ ان کی وفات پر لکھے جانے والے ایک کالم نگار کے بقول انہوں نے اپنے خاوند کو وفات سے قبل یہ وصیت کی تھی کہ انہیں ان کی سوکن کی قبر کے پہلو میں دفن کیا جائے۔ یہ ہوتے ہیں دین کی بنیاد پر قائم ہونے والے رشتے ۔ مریم جمیلہ صاحبہ کا صرف ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا کہ جس میں وہ بوڑھی خاتون اتنے زبردست حجاب میں ملبوس ہیں کہ ہمارے بڑے بڑے دین دار ایسے لباس کو دقیانوسی کہہ ڈالیں۔ مولانا مودودی رحمہ اللہ نے بھی نہایت خوبصورتی سے اس مراسلت میں اسلام کا تعارف پیش کیا ہے۔ یہ کتاب بلاشبہ ہمارے ان طبقوں کے لے دعوت غورو فکر ہے جو مسلم معاشروں میں مغربیت اور سیکولرازم کے داعی ہیں۔ چند دن پہلے ان کے خاوند یوسف خان صاحب بھی قضائے الٰہی سے وفات پاگئے۔
سبحان اللہ وہ سب واقعی بڑے عظیم لوگ تھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کی قبروں پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔

اسلامک آن لائن یونیورسٹی ۔ ایک تعارف



اسلامک آن لائن یونیورسٹی دور حاضر کے عالمی شہرت یافتہ داعی ڈاکٹر بلال فلپس کی جانب سے قائم کیا گیا ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مقصد پوری دنیا میں انٹرنییٹ کے ذریعے اسلام کی تعلیمات کو عام کرنا ہے۔ سلفی منہج پر قائم اس ادارے کا ہیڈکوارٹر قطرمیں ہے جبکہ اس کے آن لائن تعلیمی کورسز تک پوری دنیا سے کہیں سے بھی مفت رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس وقت ساری دنیا سے تقریبا 150,000 طلباء یونیورسٹی کے ساتھ  رجسٹرڈ ہیں۔

 اسلامک آن لائن یونیورسٹی اپنے طلباء کے لئے دو طرح کے کورسز فراہم کرتی ہے۔

۱۔ ڈپلومہ کورسز:
آن لائن یونیورسٹی اپنے طلباء کے لئے تقریباً دو درجن سے زائد فری شارٹ کورسز آفر کرتی ہے جو لیول ۱ سے لیول
5 تک ہیں۔ ان کورسز کے لئے کسی قسم کی فیس یا تعلیمی قابلیت کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنے مطلوبہ کورس میں رجسٹر کرنے کے بعد طلباء کو تحریری مواد تک رسائی فراہم کردی جاتی ہے ۔ ہر شارٹ کورس مخلتف ماڈیولز پر مشتمل ہوتا ہے اور ہر ماڈیول کے اختتام پر multiple choice questions  کے فارمیٹ پر ایک امتحان بھی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ہر ماڈٰیول میں طلباء کی سہولت اور استفادےکے لئے ایک ویڈیو لیکچر بھی موجود ہوتا ہے۔ جبکہ کسی قسم کی پریشانی کی صورت میں کورس کوآرڈینییٹر سے ای میل کے ذریعےرابطہ کرکے مزید رہنمائی بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ہر شارٹ کورس کے اختتام پر طلباء کو سرٹیفیکیٹ بھی ای میل کئے جاتے ہیں۔
تمام شارٹ کورسز (جو تقریباً
24 ہیں )مکمل کرنے والے طباء کو ڈپلومہ سرٹیفییکیٹ بھی دئیے جاتے ہیں اور یہ اُن کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ ڈپلومہ کورس میں داخلہ لیں اور اس میں موجود لیول 1 سے لیول 5 تک تمام شارٹ کورسز باری باری کریں یا اپنے مطلوبہ کورسز کا انتخاب اپنی مرضی سے کریں۔
اس کے علاوہ علم نفسیات، اسلامی معیشیت، علم التعلیم، حفظ قرآن اور عربی زبان کے لئے بھی علیحدہ سے شارٹ کورسز آفر کئے جاتے ہیں جن کے لئے صرف ایک انٹرنیٹ کنکشن درکار ہے۔
اسلامک آن لائن یونیورسٹی کے مقبول ترین کورسز یہ ہیں
دعوۃ تربیتی کورس، شرح اربعین نووی، شرح کتاب التوحید، فقہ الزواج، فقہ الطہارہ ، شرح اصول السنہ، فقہ الصلاۃ، اصول التفسیر، اصول الثلاثہ، قواعد الاربعہ، فقۃ الصوم، علوم الحدیث، تفسیر سورۃ یوسف (یاسر قاضی)، فقہ الزکوٰۃ، شرح نواقض اسلام۔
ڈپلومہ سیکشن اور شارٹ کورسز کے بارے میں مزید معلومات کے لئے وزٹ کیجیے:
http://www.islamiconlineuniversity.com/opencampus

۲۔ ڈگری کورسز:
ڈپلومہ کورسز کی طرح آن لائن ڈگری کورسز بھی طلباء کے لئے بالکل فری ہیں۔ البتہ طلباء کو امتحانات، امتحانی مراکز میں جاکر دینا ہوتے ہیں جوکہ پوری دنیا میں اسلامک آن لائن یونیورسٹی کی جانب سے مقرر کردہ مختلف امتحانی سینٹرز میں منعقد ہوتے ہیں جن کے لئے طلباء کو فیس بھی ادا کرنی ہوتی ہے اور یہ فیس بھی  مخلتف ملک کی کرنسی اور محل وقوع کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔ پاکستان میں یہ امتحانات عمومی طور پر مختلف شہروں میں موجود الھدٰی انٹرنیشنل کے مراکز اور قرآن فہمی کے دیگر مراکز میں منعقدکئے جاتے ہیں جن کی تفصیلات اسلامک آن لائن یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر دیکھی جاسکتی ہیں۔
یہ ڈگری پروگرامز علم نفسیات، اسلامی معیشیت، تعلیم وغیرہ میں بی۔اے کی سطح پر آفر کئے جاتے ہیں جبکہ ’اسلامی علوم‘ میں یہی پروگرام بی۔اے اور ایم۔اے کی سطح پر آفر کئے جارہے ہیں۔

ان کورسز کی سب سے بہترین خصوصیت یہ ہے کہ تقریباً تمام تر کورسز کے تحریری مواد کی تیاری میں آئمہ اہلسنت اور سلف صالحین کی کتب سے استفادہ کیا گیا ہے اور فقہی اختلافات کو کم سے کم ڈسکس کیا گیا ہےتاکہ امت کا تعلق اس کے اصل مآخذ سے جوڑا جاسکے۔
اس وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہمارے ملک کے اردودان طبقہ کے لئے بھی اردو زبان میں ایسے ہی کسی آن لائن تعلیمی ادارے کا قیام عمل میں لایا جائے جو فقہی تعصبات سے بالاتر ہوکر صرف قرآن و سنت کی بنیاد پر امت تک دین کی دعوت کا پیغام پہنچا سکے اور میری اس پوسٹ کا اصل مقصد یہی ہے کہ ہمارے علماء اور مذہبی طبقہ ایسے کسی آن لائن تعلیمی ادارے کے قیام کے لئے کوئی مشترکہ کوشش کریں جس کا مقصد اپنی فکر یا نظریات کے فروغ کی بجائے خالص قرآن و سنت اور سلف صالحین کی تعلیمات کی تبلیغ و اشاعت ہو۔