Tuesday, May 27, 2014

مذہبی شدت پسندی اور اباحیت

ہمارے معاشرے میں دو طرح کی انتہا پسندی پائی جاتی ہے ایک تو مذہبی شدت پسندی کہ دین کے ہر کام میں غلو مثلاً کسی کی شلوار تھوڑی سی ٹخنوں سے نیچے دیکھ لی یا کسی نے اپنی داڑھی کی تھوڑی بہت کانٹ چھانٹ کردی تو بس فوراً فتوٰی بازی شروع۔ 
دوسری طرف اباحیت یعنی permissiveness جس کو آج کے دور میں لبرلزم کی خوشنما اصطلاح کے تحت فروغ دیا جارہا ہے۔ 
اب اول الذکر انتہا پسندی کے بارے میں تو بہت کچھ کہا اور لکھا جارہا ہے بلکہ ہمارے سنجیدہ مذہبی حلقوں سے بھی اس مذہبی انتہابسندی کے خلاف آوازیں اٹھتی رہتی ہیں۔ 
لیکن افسوس کہ دوسری طرف اس بڑھتی ہوئی اباحیت یعنی لبرل انتہاپسندی کے بارے میں نا صرف کوئی بات نہیں کی جاتی بلکہ اس کو روشن خیالی اور اس جیسی دوسری خوشنما اصطلاحات کے تحت میڈیا اور تعلیمی اداروں میں فروغ دیا جارہا ہے۔ ایسی انتہا پسندی کا شکار لوگ مذہب کو ایک پرائیویٹ معاملہ سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں اور اگر کہیں ان کے ساتھ دلائل کی بنیاد پر گفتگو کرنے کی کوشش کی جائے تو فوراً سے پہلے آپ پر مولوی کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔

مسلم نوجوان اور شدت پسندی

ہمارے پاس اکثر دین دار نوجوان ایسے آتے ہیں جو ہم سے دین کی بابت ایسے سوالات پوچھتے ہیں کہ جن کا مقصد محض یہی ہوتا ہے کہ ہم دوسرے مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کی تنقیص اور ان پر تنقید کرسکیں۔ جبکہ ایسے نوجوانوں میں سے اکثریت کا حال یہ ہوتا ہے کہ انہیں دین کی بنیادی باتوں کےبارے میں بھی کچھ خاص علم نہیں ہوتا۔ 
نوجوانوں میں تعصب اور فرقہ پرستی کا یہ بڑھتا ہوا رجحان خطرناک ہے کیونکہ ہمارے نوجوان داعیان کا اصل کام لوگوں کو دین کی طرف دعوت دینا ہے نا کہ ہر وقت اپنے سے مختلف نظریات رکھنے والے علماء اور داعیان کا رد کرتے رہنا۔ 
ہمارے علماء کو اس سلسلے میں نوجوانوں کو صحیح سمت کی جانب رہنمائی کرنی چاہیئے۔ 
(علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی ایک آڈیو تقریر سے اقتباس)۔

ہمارے آئمہ دین اور مغربیت کا طوفان

ہمارے آئمہ امام شافعی، امام ابوحنیفہ، امام احمد بن حنبل اور امام مالک رحمھم اللہ نے اپنے دور میں اسلام کے لئے عظیم ترین خدمات پیش کیں۔ ان کی فقہ کے میدان میں خدمات سے کروڑوں نفوس نے فائدہ اٹھایا لیکن آج جو امت محمدﷺ پر الحاد و دہریت کا غلبہ ہے۔ اگر آج اس زمانے وہ آئمہ موجود ہوتے تو شاید وہ بھی فقہ کے میدان میں اپنی مصروفیات کو چھوڑ کر الحاد، دہریت اور مغربیت کے اس طوفان کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی صلاحیتوں کو کھپا دیتے۔ 
(سید ابو الحسن ندوی رحمہ اللہ کی کتاب پاجا سراغ زندگی سے اقتباس)

جدید مسلمان ۔ سیکولرازم کے داعیوں کی الجھن

ھمارے معاشرے کا مولوی...! ۔۔۔۔۔۔۔ دیسی لبرلز کے گھسے پٹے خیالات
دیسی لبرلز و سیکولرز نے مولوی کا کچھ ایسا نقشہ کھینچا ھے:
''یعنی ایسا شخص جو حقوق العباد کو نظر اندازکر کے حقوق اللہ پر زیادہ زور دیتا ہے!
جس کا کل مطمح نظر مذہبی مظاہر اور رسومات ہیں!
جو دین کے معاملے میں ذرا بھی اختلاف رائے برداشت نہیں کرتا۔ دین پر عمل کرنے کے معاملے میں رخصت کی اجازت نہیں دیتا۔!
جو صرف اپنے مسلک کو ہی حق سمجھتا ہے!
انتہائی غصہ ور!
جو مسئلے کا حل دینے کے بجائے صرف فتوے دیتا ہے!
جو دین کے نظریاتی اور انٹلکچول پہلو سے نابلد ہے اور صرف فقہی پہلو سے واقف ہے۔
بہت بڑی داڑھی والا!
عالمی حالات اور عالم اسلام سے ناوقف۔ وقت کے تقاضوں سے آزاد!
دین کو اپنے ذاتی مفادات کے لئے استعمال کرنے والا۔بے عمل مبلغ!
وغیرہ وغیر...!!!
صحیح یا غلط طور پر ہمارے معاشرے میں یہی مولوی کی تصویر بنادی گئی ہے۔اس تصویر نے دیسی سیکولروں کی بہت ساری مشکلیں آسان کردی ہیں۔ مولوی دین کی کچھ بھی بات کر لے چاہے وہ بات کتنی ہی معقول ہوصرف ایک "مولوی" کا طعنہ دے کر پورے محفل لوٹی جاسکتی ہے۔
لیکن
سیکولر اور ملحد طبقے کا ایک بہت بڑا مسئلہ وہ پڑھے لکھے دین دار نوجوان ہیں جو پورے شعور کے ساتھ، نہ صرف دین کو بلکہ دین کے خلاف تمام مقدمات کو سمجھتے ہوئے بڑے ہی ناموافق حالات میں اسلام پر ڈٹے ہوئے ہیں بلکہ الحاد و سیکولرزم کے خلاف نظریاتی محاذ بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔ وقت گذرنے کے ساتھ اسلام کا نظریاتی اور فکری مقدمہ مضبوط ہی ہورہا ہے۔اس کی بنیادی وجہ ایک طرف ہمارے کچھ علماء ومحققین کی تحقیق ہے تو دوسری اہم ترین وجہ یہ بھی ہے کہ مغربی نظریات کی منطقی بنیاد انتہائی بودی ہے۔ مغرب نے ایک غلط عقیدہ یعنی مسیحیت کا مقابلہ کر کے اپنے تئیں یہ سمجھ لیا تھا کہ اس نے تمام مذاہب کو شکست دی ہے۔ لیکن ایسے مسلمان جو مغربی فکر سے مرعوب نہیں ہیں جب انہیں مغربی نظریات کو معروضی انداز میں پرکھتے ہیں تو اندر سے لغو قسم کے دعوے ہی نکلتے ہیں۔دوسری طرف دیسی سیکولر ان مغربی نظریات کی خالص علمی نمائندگی کرنے کےبجائے صرف اس علمی مرعوبیت کی نمائندگی کرتے ہیں جس کی علمیت سے وہ قطعی نابلد ہیں۔ ان دیسی سیکولروں کا پورا مقدمہ اور فکر در اصل اس مولویت کے خلاف ہوتی جس کے صفات پیچھے بیان کی گئیں۔
ان کی منافقت کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ جیسے ہی کسی باشعور مسلمان سے ان کو پالا پڑتا ہے تو اس شعور کا فکری مقابلہ کرنے کے بجائے فوراً مولویت کی دہائی دینا شروع کردیتے ہیں۔ اب تو اس مولویت کے سانچے کے باہر بھی انہیں دین نظر آتا ہے، لیکن پھر بھی اس کو سمجھنے، قبول کرنے، یا مقابلہ کرنے کے بجائے فوراً مولویت کی طعنہ دے کر اپنے آپ کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ انہوں نے اسلام کو نظریاتی شکست دے دی۔
مولویت کے ساتھ غلط یا صحیح طریقے سے جو جمود اور فرسودگی منسوب کی جاتی ہے اس کے شکار وہ خود سب سے زیادہ ہیں۔اندھی تقلید جو کہ مولویت کا خاصہ سمجھی جاتی ہے وہ انہیں دیسی سیکولروں کا خاصہ ہے۔ انہیں اندھا ایمان اس لئے پسند ہے کیونکہ وہ سیکولرزم پر اپنے اندھے ایمان سے مسلمانوں کے اندھے ایمان کا مقابلہ کرنے میں ایک گونہ اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ ہاں کسی باشعور مسلمان کو دیکھتے ہی ان کی سٹی گم ہوجاتی ہے، کیوں کہ سیکولرزم پر ان کا ایمان کسی شعور کے بجائے مرعوبیت کی وجہ سے ہوتا ہے۔
اب انہیں کون سمجھائے کہ اسلام انکی اپنی مزعومہ مولویت سے بہت آگے جاچکا ہے''۔
بشکریہ ابوزید AbdusSalam Khalifa