ہمارے معاشرے میں دو طرح کی انتہا پسندی پائی جاتی ہے ایک تو مذہبی شدت پسندی کہ دین کے ہر کام میں غلو مثلاً کسی کی شلوار تھوڑی سی ٹخنوں سے نیچے دیکھ لی یا کسی نے اپنی داڑھی کی تھوڑی بہت کانٹ چھانٹ کردی تو بس فوراً فتوٰی بازی شروع۔
دوسری طرف اباحیت یعنی permissiveness جس کو آج کے دور میں لبرلزم کی خوشنما اصطلاح کے تحت فروغ دیا جارہا ہے۔
اب اول الذکر انتہا پسندی کے بارے میں تو بہت کچھ کہا اور لکھا جارہا ہے بلکہ ہمارے سنجیدہ مذہبی حلقوں سے بھی اس مذہبی انتہابسندی کے خلاف آوازیں اٹھتی رہتی ہیں۔
لیکن افسوس کہ دوسری طرف اس بڑھتی ہوئی اباحیت یعنی لبرل انتہاپسندی کے بارے میں نا صرف کوئی بات نہیں کی جاتی بلکہ اس کو روشن خیالی اور اس جیسی دوسری خوشنما اصطلاحات کے تحت میڈیا اور تعلیمی اداروں میں فروغ دیا جارہا ہے۔ ایسی انتہا پسندی کا شکار لوگ مذہب کو ایک پرائیویٹ معاملہ سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں اور اگر کہیں ان کے ساتھ دلائل کی بنیاد پر گفتگو کرنے کی کوشش کی جائے تو فوراً سے پہلے آپ پر مولوی کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔
دوسری طرف اباحیت یعنی permissiveness جس کو آج کے دور میں لبرلزم کی خوشنما اصطلاح کے تحت فروغ دیا جارہا ہے۔
اب اول الذکر انتہا پسندی کے بارے میں تو بہت کچھ کہا اور لکھا جارہا ہے بلکہ ہمارے سنجیدہ مذہبی حلقوں سے بھی اس مذہبی انتہابسندی کے خلاف آوازیں اٹھتی رہتی ہیں۔
لیکن افسوس کہ دوسری طرف اس بڑھتی ہوئی اباحیت یعنی لبرل انتہاپسندی کے بارے میں نا صرف کوئی بات نہیں کی جاتی بلکہ اس کو روشن خیالی اور اس جیسی دوسری خوشنما اصطلاحات کے تحت میڈیا اور تعلیمی اداروں میں فروغ دیا جارہا ہے۔ ایسی انتہا پسندی کا شکار لوگ مذہب کو ایک پرائیویٹ معاملہ سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں اور اگر کہیں ان کے ساتھ دلائل کی بنیاد پر گفتگو کرنے کی کوشش کی جائے تو فوراً سے پہلے آپ پر مولوی کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔