Tuesday, March 4, 2014

مسلمان کا ماضی



قوموں کی  زندگی میں تاریخ کی اہمیت وہی ہے جو کہ ایک فرد کی زندگی میں اس کی یادداشت کی ہوتی ہے۔ جس طرح ایک فرد واحد کی سوچ، شخصیت، کردار اور نظریات پر سب سے بڑا اثر اس کی یادداشت کا ہوتا ہے اسی طرح ایک قوم کے مجموعی طرزعمل پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی چیز اس کی تاریخ ہوتی ہے ۔ جس طرح ایک فرد اپنے زندگی کے اہداف و مقاصد اپنے frame of reference  کی روشنی میں طے کرتا ہے اسی طرح قوموں کے بحیثیت مجموعی اہداف  و مقاصد کے تعین میں سب سے بڑا عمل دخل اس کی تاریخ کا ہوتا ہے۔ دنیا کی ہر قوم کا اپنی تاریخ سے بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے۔اور قوموں کی مجموعی نفسیات کے معاملے میں بھی تاریخ کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔  قوم یہود کی ہی مثال لیجیے جو حضرت سلیمان  اور حضرت داوؑد  علیھماالسلام کے دور میں دنیا کی سپر پاور تھے اب اس دور کو گزرے  ہوئے ہزاروں سوال بیت چکے ہیں لیکن ابھی تک  اس دور کی یاد ان کے دلوں میں زندہ ہے اور آج بھی دنیا بھر کے یہودی اپنی اس کھوئی ہوئی شان و شوکت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے تگ و دو کررہے ہیں ۔
تاریخ کے بارے میں کسی نے  بالکل ٹھیک کہا ہے کہ
You can’t change the past but you can change the history
اور یہی بات ہمارے آج کے  مین سٹریم الیکٹرانک میڈیا پربالکل صادق آتی ہے جہاں  بیٹھے سیکولر، لبرل اور Leftist  دانشور صبح و شام پاکستانی قوم کی یہی سبق بار بار پڑھا رہے ہیں کہ مسلمانو تمہاری تاریخ کچھ بھی نہیں۔ مسلمانوں کی ساری تاریخ جنگ و جدل سے بھری پڑی ہے مسلمانوں نے سوائے جنگیں کرنے اور دوسرے ملکوں پر قبضے کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا ہے۔رسول اللہ ﷺ کے وصال کے فوراً بعد مسلمانوں میں جنگ و جدل شروع ہوگیا تھا یا زیادہ سے زیادہ مسلمانوں  کا سنہری دور Golden Age کوئی ہے بھی تو وہ  ۳۰ سال سے زیادہ نہیں ہے۔  محمد بن قاسم ایک لٹیرا تھا۔ سلطان محمود غزنوی تو ہندوستان میں آیا ہی لوٹ مار کے لئے تھا۔ ٹھیک ہے عبدالرحمٰن الداخل نے سپین میں اسلامی مملکت قائم کی مگر اس کوبھی تو  اسلام سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ یہاں تک کہ صلاح الدین ایوبی جس نے  بیت المقدس کو صلیبیوں کے قبضے سے آزاد کروایا  تو اس نے بھی مسلمانوں کے خلاف جنگیں کیں اور وہ بھی تو ظالم ہی  تھا نہ ۔  معاذ اللہ۔یہاں تک جنگ جمل اور جنگ صفین کی صورت میں بھی انہیں صحابہ کرام ؓ بھی باہم دست و گریبان نظر آتے ہیں ۔ معاذاللہ ۔ جب ان کے سامنے عثمانی ترکوں کا ذکر کیا جائے تو انہیں فوراً ان کے حرم یاد آجاتے ہیں اورجب عربوں کا ذکر ہو تو انہیں حجاج بن یوسف  کے مظالم ہی نظر آتے ہیں اور مغلیہ سلطنت میں بھی انہیں اورنگزیب عالمگیر کے ستائے ہوئے ہندووؑں  سے ہمدردی ہوجاتی ہے۔ اور اگر کہیں  کوئی سائنس کے میدان میں مسلمانوں کی خدمات کا ذکر کر بیٹھے تو  وہ ساری ایجادات اور کارنامے انہیں یونانیوں اور روموں کی ایجادات اور انکشافات کا چربہ نظر آتے ہیں۔  
’بھائی صاحب مسلمانوں کی ساری تاریخ تو بنو امیہ اور بنو عبا س کی خون ریز جنگوں سے بھری پڑی ہے
’آپ مجھے پوری اسلامی تاریخ میں کوئی ایک شخصیت دکھا دیں‘  
اس طرح کی باتیں آپ کو ہمارے مغربی تعلیم یافتہ مگر دین سے بے بہرہ لوگوں کے ہاں اکثر سننے کو ملیں گی۔  ایسے پڑھے لکھے لوگ جو کسی بھی معاشرے میں نا صرف 
intelligentsia کی حیثیت رکھتے ہیں بلکہ معاشرے کے مجموعی دھارے کے متعین کرنے والے Trend setters of society  بھی یہی لوگ ہوتے ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ ان لوگوں کی دین کے بارے میں تمام تر معلومات یا تو  متعصب مغربی مصنفین کی اسلام کے بارے میں لکھی ہوئی کتابیں ہوتی ہیں یا پھر ہمارا دین بیزار الیکٹرانک میڈیا ہوتا ہے۔ ویسے تو ان لوگوں نے کبھی تاریخ ابن کثیر، تاریخ ابن خلدون، تاریخ ابن اسحاق و ابن ہشام جیسی کتابوں کا شاید کبھی نام بھی نہ سنا ہو لیکن اسلامی تاریخ کے بارے میں ہمارے یہ حضرات ایسے مکالمہ کرتے ہیں جیسے تاریخ کے بارے میں ان سے زیادہ کوئی واقفیت رکھتا ہی نہیں ہے۔ ویسے اس معاملے میں ہمارے دانشور اور ہماری میڈیا پوری دنیا میں بالکل منفرد ہے کیونکہ دنیا کی تمام تر اقوام اپنی تاریخ کو Glorify کرکے اپنی نئی نسلوں کے سامنے پیش کرتے ہیں لیکن ہمارے یہ ’دیانتدار‘ مفکرین ہی ہیں جنہیں ہماری تاریخ میں صرف منفی چیزیں ہی نظر آتی ہیں جنہیں وہ ڈھونڈ کر لاتے اور ہماری قوم کے نوجوانوں کے علم میں ’اضافہ‘ کرتے پھر رہے ہیں۔
آج  عالم کفر کا اسلام کے خلاف جن محاذوں پر زور لگ رہا ہے ان میں سے ایک محاذ یہ بھی ہے اس امت خاص طور پر اس کے نوجوانوں کا تعلق ان کے ماضی سے توڑ دیا جائے  تاکہ وہ شرح صدر کے ساتھ مغرب کی فکری غلامی کو اختیار کر سکیں کیونکہ جب اس امت کے نوجوانوں کو اس بات کا پختہ یقین ہو چلے گا کہ ان کے اسلاف کی تمام تر تاریخ محض دیومالائی  قصے کہانیوں کے کچھ بھی نہیں تو پھر آخر کار idealize  کرنے کے لئے مغربی تہذیب اور افکار و نظریات ہی رہ جائیں گے۔ آپ مستشرقین یا مغرب کی گود میں بیٹھے ہوئے  مسلم دانشوروں کی اسلام کے بارے میں کتب اٹھا کر دیکھ لو ان سب کتابوں سے آپ ایک ہی نتیجہ نکالو گے کہ آج کے کچھ سر پھرے مسلمان شریعت کے نفاذ اور اسلامی خلافت کے احیاء کے لئے تگ و دو کررہے ہیں وہ درحقیقت کچھ بھی نہیں ۔ ایسی شریعت و خلافت سے تو ہماری جمہوریت ہزار درجے بہتر ہے اس لئے بھول جائیے اپنے ماضی کو اور اسلام کے سیاسی و اجتماعی تصور کو۔  اور کھلے دل  سے گلے لگالو ہمارے دین بیزار سیکولر، لبرل نظام کو  کہ اسلام کی بقاء اسی میں ہے۔
ویسے ایسے حضرات کی خدمت میں عرض ہے کہ بھائی اگر آپ کو اسلامی تاریخ میں ساری منفی چیزیں ہی نظر آتی ہیں تو ذرا وقت نکال کر
BBC  کی ڈاکومینٹری Islam and Science اور An Islamic History of Europe ہی دیکھ لیجیے شاید آپ کی آنکھیں کھل جائیں اور اگر آپ نے اس دنیا میں مسلمانوں کے کارناموں کے بارے میں جاننا ہو تو  ایک مغربی مصنف کی ہوئی لکھی ہوئی کتاب 100 Inventions: Muslim Heritage in the World  کا مطالعہ کر لیجیے  ۔ حقیقت واضح ہوجائے گی ۔