Friday, November 7, 2014

ہمارے تعلیمی ادارے اور مغربیت

کچھ عرصہ پہلے لاہور کے ایک انگلش میڈیم سکول میں او لیول کے بچوں کو اسلامیات پڑھانے کا اتفاق ہوا مگر یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ زیادہ تر بچوں کو صحیح طرح آیۃ الکرسی بھی نہیں پڑھنی آتی اور اُس سے بھی بڑھ کر حیرانی کی بات یہ کہ آکسفورڈ یونیورسٹی نے ایسے بچوں کے لئے نصاب میں جنگ جمل اور جنگ صفین جیسے واقعات کو شامل کررکھا ہے جن کو دین کی مبادیات کے بارے میں بھی علم نہیں۔
غالباً یہ وہی مستشرقین کا مرتب کردہ اور Orientalist approach کے تحت وضع کردہ اسلامیات کا نصاب ہے جسے پڑھنے والے مسلمان طالب علم قرآن، حدیث، فقہ، اصول فقہ، شریعت، عشرہ مبشرہ جیسی اصطلاحات سے تو ناواقف رہتے ہیں البتہ جنگ جمل، جنگ صفین، شیعان علی و شیعان عثمان اور مشاجرات صحابہ کے بارے میں اُن بچوں کی معلومات میں خوب اضافہ کیا جاتا ہے۔ اور اُوپر سے اگر اس ملک کے پوش سکولوں میں او۔لیول اسلامیات پڑھانے والے اساتذہ کی ایک خاطر خواہ تعداد رافضیت سے تعلق رکھتی ہو تو پھر سونے پر سہاگہ ہوگیا کیونکہ پھر ایسے اساتذہ کو صحابہ کرام ؓ اور تاریخ اسلام کے بارے میں کیچڑ اچھالنے اور اُن معصوم بچوں کے ذہنوں کو اسلام کی اُن جلیل القدر ہستیوں کے بارے میں پراگندہ کرنے کا بھرپور موقع میسر آتا ہے ۔
پھر انہی سکولوں سے پڑھ کر نکلنے والے مسلمان بچے آپ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ جناب آپ کس اسلام کی تاریخ کی بات کرتے ہیں؟؟ اسلام کی پوری تاریخ تو بنو امیہ اور بنو عباس کی باہمی لڑائیوں سے بھری پڑی ہے۔ محمد بن قاسم تو معاذ اللہ ایک لٹیرا تھا جو راجا داہر کی دولت لوٹنے یہاں آیا تھا اور صلاح الدین ایوبی وہ تو خود سیکولر تھا۔ اور سلطان محمود غزنوی وہ تو ہندوستان آیا ہی اس لئے تھا کہ اس کی نظریں سومنات کے مندر کے سونے و جواہرات پر تھی۔ ٹھیک ہے عبد الرحمٰن الداخل نے اندلس میں اسلامی سلطنت قائم کی تھی مگر اسے اسلام سے تو کوئی دلچسپی نہیں تھی اور جہاں تک سائنس کا معاملہ ہے تو اول تو مسلمانوں کی اس میں کوئی خاطر خواہ contribution ہی نہیں اور جن مسلمان سائنسدانوں نے کچھ کام بھی کیا وہ درحقیقت دین بیزار اور لبرل تھے۔ اچھا ساری باتیں چھوڑیں آپ مجھے پوری اسلامی تاریخ میں کوئی ایک بڑی شخصیت دکھلا دیں۔
وہ الگ بات ہے کہ اسلام کی پوری تاریخ پر عبور رکھنے والے مسلماںوں کے ان بچوں نے شاید کبھی تاریخ ابن کثیر، تاریخ طبری، تاریخ ابن ہشام یا اس جیسی دیگر تاریخ اسلامی کی کُتب کا نام تک نہیں سنا ہوتا کیونکہ اُن کے نزدیک تو اولاً یہ کتابیں تو اردو میں لکھی گئی ہیں اور اْردو کوئی زبان تھوڑی ہے۔ اس اُردو نے تو اگلے سو سالوں میں ویسے ہی دنیا سے ختم ہوجانا ہے اوراس کے علاوہ مسلمان مورخین بڑے جانبدار biased ہوتے ہیں ہاں البتہ Orientalists کی تاریخ اسلام کے بارے میں لکھی گئی کتب کافی حد تک معتبر reliable ہوتی ہیں۔
کسی بھی قوم کے لئے اس سے بڑھ کر فکری غلامی intellectual slavery نہیں ہو سکتی کہ اگر اس نے اپنی تاریخ کا بھی مطالعہ کرنا ہو تو وہ اپنوں کی کتابوں کی بجائے غیروں کی کتابوں سے کرے۔

انسانیت کا اصل ہدف

امام ابن  حزم اپنی مشہور تصنیف ‘الاخلاق  و السیر فی مداواۃ النفوس’ میں لکھتے ہیں کہ
میں نے اس چیز کو تلاش کرنے کی بڑی کوشش و جستجوکی ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے تمام انسان کوشش کررہے ہیں اور بڑی سوچ بچار کے بعد میں اسی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ وہ ایک ہی چیز ہے اور وہ ہے ‘غموں سے نجات’۔
جب میں نے اس پر مزید غور و فکر کیا  تو معلوم ہوا کہ ہر انسان   چاہے وہ عالم ہو،جاہل ہو، نیک ہو یا  بد ہو، سب اس میں  یکساں ہیں اور  ان کی تمام تر محنت، جدوجہد اور کوشش صرف اسی ایک مقصد کے لئے ہے کہ وہ اپنے آپ کو غموں، فکروں، پریشانیوں اور تفکرات سے دور رکھ سکیں البتہ لوگ اس کے لئے مختلف طریقے اختیار کرتے ہیں  اور زیادہ تر لوگ اس سلسلے میں سیدھے راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں اور بہت تھوڑی تعداد میں لوگ ایسے ہیں  جو  اپنے آپ کو ان ‘تفکرات سے نجات’ حاصل کرنے کے لئے  راہ راست پر ہیں۔
چنانچہ لوگ دولت کی خاطر اسی لئے تگ و دو کرتے ہیں تاکہ وہ اس کے ذریعے اپنے دلوں سے غربت کی پریشانیوں کو دور کریں۔ شہرت کے متلاشیوں نے شہرت کی طلب اس لئے کی  کہ وہ اس کے ذریعے اپنے احساس محرومی کو ختم کرسکیں۔ لذتوں کے متلاشیوں نے اسے اس لئے تلاش کیا کہ وہ ان کے ذریعے اپنےدلوں پر چھائی ہوئی فکر کا ازالہ کرسکیں۔  علم کی راہ میں نکلنے والے بھی اسی لئے اٹھے کہ  وہ علم کے ذریعے اپنی فکر کو دور کرسکیں۔طرح طرح کے اعلٰی کھانے  اور مشروبات پینے والے، شادی بیاہ کرنے والے، ورزش کرنے اور کھیلیں کھیلنے والے، تنہائی اختیار کرنیوالے، سب لوگوں نے یہ کام اس لئے کئے کہ وہ فکروں اور پریشانیوں کو اپنے آپ سے ہٹا سکیں۔
امام ابن حزم رحمہ اللہ مزید لکھتے ہیں کہ جب اللہ رب العزت نے مجھے اس بات تک پہنچا دیا کہ  اس دنیا میں ہر انسان صرف اسی ‘ذہنی سکون’ کو حاصل کرنے کے لئے تگ و دو کررہا ہے تو پھر مجھے اس بات کی فکر ہوئی کہ آخر اس کی اصل   راہ ہے کیا؟       بڑے غورو حوض کے بعد میں  اس نتیجے پر پہنچا کہ وہ راستہ  اللہ کی رضا کی خاطر آخرت کے لئے کام‘ کرنے کے علاوہ اور کوئی نہیں۔
میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ جس شخص کی زندگی کا مقصد محض آخرت کے لئے عمل کرنا ہو تو ایسا شخص اس راہ میں اگر کسی ناپسندیدہ چیز میں مبتلا ہوجائے تو وہ غم زدہ ہونے کی بجائے مزید خوش ہوتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس  پریشانی کو اپنے مقصد کے حصول کی خاطر اٹھا رہا ہےاس لئے  یہ پریشانی اس کے لئے مزید خوشی کا باعث ہوتی ہے۔
مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ اگر ایسے شخص کو اللہ کی رضا کی خاطر آخرت کے لئے کوشش و تگ و دو  کرنے کی راہ میں لوگوں کی طرف سے کوئی تکلیف یا دکھ پہنچایا جائے تو وہ  اس کام میں مزید لذت اور سرور محسوس کرتا ہے اور اگر وہ تھک جائے تو وہ  فرحت و خوشی محسوس کرتا ہے
گویا اس دنیا وی زندگی میں صرف اور صرف اللہ کی رضا کی خاطر اخروی زندگی کے لئے کام کرنے والاشخص  ہی ایسا واحد فرد ہوتا ہے جو مسلسل اور دائمی خوشی میں رہتا ہے  جبکہ باقی تمام لوگوں کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔

Wednesday, October 22, 2014

نماز فجر کے لئے کیسے اٹھا جائے؟

اگر ہم اپنے اردگرد مساجد کا جائزہ لیں تو  ہم اس بات کا آسانی سے مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ مختلف اوقات اور نمازوں میں باجماعت نماز پڑھنے والوں کی تعداد مختلف ہوتی ہے۔ عمومی طور پر پنجگانہ نمازوں میں  مغرب کی نماز میں نمازیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوتی ہے جبکہ سب سے کم تعدادنماز فجر میں ہوتی ہے ۔ موجودہ دور کی شہری زندگی میں تو یہ مسئلہ اور بھی زیادہ سنگین ہے کیونکہ شہروں میں لوگوں کی  اکثریت نماز عشا کے بعد بھی دیر تک جاگتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے صبح نماز فجر کے لئے اٹھنا مشکل ہوتا ہے۔ کیا آپ کی زندگی میں کبھی ایسا واقعہ پیش آیا ہے کہ آپ پختہ ارادہ کرکے سوئیں کہ آپ نے صبح نماز فجر کیلئے اٹھنا ہے یا آپ کو پورا یقین ہو کہ آپ نماز فجر مسجد میں با جماعت ادا کرسکیں گے ۔ تھوڑی دیر کیلئے اپنی زندگی کے دو مناظر کے بارے میں تصور کیجیے کیونکہ یقینا ہم میں سے ہر ایک کی زندگی میں یہ دو مناظر ضرور واقع ہوئے ہوں گے۔
پہلا منظر
آپ کا ایمان اور تقوی اللہ کے فضل سے بہت زیادہ بڑھا ہوا ہے ۔ آپ نے نماز عشا ادا کرنے کے بعد کچھ دیر قرآن بھی پڑھا اور آپ کو پختہ یقین ہے کہ آپ صبح فجرکی نماز کے لئے اٹھ جائیں گے کیونکہ آپ ذہنی، جسمانی اور روحانی طور پراس کے لئے بالکل تیار ہیں بلکہ بعض اوقات تو آپ رات کو کئی مرتبہ اس ڈر سے اٹھے ہوں کہ کہیں فجر کی باجماعت نماز آپ سے رہ نہ جائے۔ اگر آپ کو اس طرح کا کوئی تجربہ پہلے کبھی نہیں ہوا تو پھرذرا اس بات  کا تصور کیجیے کہ جب آپ نے صبح جلدی اٹھ کر کوئی فلائٹ پکڑنا ہو یا کسی بس پر سوار ہونا ہو تو یقینا اکثر و بیشتر آپ اٹھ جاتے ہیں، چاہے آپ کتنی دیر سے ہی کیوں نہ سوئے ہوں۔ پھر نماز فجر باجماعت ادا کرنے کے بعد انسان سارا دن ہشاش بشاش گزرتا ہے  کیونکہ نماز فجر باجماعت ادا کرنے سے ایک انسان کوخوشی کا احساس ہوتا ہے۔
دوسرا منظر
پہلےمنظر کے برعکس آپ کی زندگی میں اکثر ایسا بھی ہوتا  ہوگا کہ آپ باوجود بہت کوشش کرنے کے صبح نماز  فجر کے لئے اٹھ نہ سکے ہوں اور پھر دن چڑھے لیٹ سو کر اٹھنے اور نماز فجر کو باجماعت نہ پڑھ سکنے پر آپ کو افسوس بھی ہوا ہوگا۔ یا بالفرض آپ الارم کی وجہ سے صبح وقت پر اٹھ بھی گئے ہوں مگر  snooze کا بٹن دباکر پھر سوگئے ہوں یا پھر شیطان نے آپ کو یہ بہلا کر دوبارہ سلادیا ہوکہ’بس پانچ منٹ اور‘۔
ہم میں سے ہر کوئی یہی چاہتا ہے کہ ہرروز اس کی زندگی میں پہلا منظر ہی دہرایا جائے۔ یہاں ہم کچھ عملی طریقے بیان کریں گے جن پر عمل کرکے ان شاء اللہ روزانہ فجر کی نماز کے لئے اٹھا جا سکتا ہے۔ مگر ان طریقوں کو یہاں بیان کرنے کا مقصد صرف ان کو پڑھ لینا ہی نہیں بلکہ ان کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا ہے۔
۱۔ پختہ نیت رکھیے
سب سے اہم اور ضروری بات جو نماز فجر کو باجماعت اداکرنے کے لئے ضروری ہے وہ پختہ نیت اور ارادہ ہے اگر آپ کی نیت پختہ نہیں تو آپ جو مرضی کرلیں آپ نماز فجر کے لئے نہیں اٹھ سکتے۔ یہ ہماری نیت اور ارادے کی کمزوری  ہی ہوتی ہے کہ ہم باوجود ہزار کوشش کے نماز فجر کے کئے نہیں اٹھ پاتے۔ رات کو سونے سے پہلے خلوص دل سے یہ نیت کریں کہ میں نے ان شااللہ صبح اٹھ کر نماز فجر باجماعت ادا کرنی ہے۔ اور اپنے آپ سے یہ عہد کرکے سوئیں۔
۲۔  وضو ، تلاوت قرآن اور مسنون اذکار کا اہتمام کیجیے
اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ رات کو قرآن پڑھے بغیر نہ سوئیں۔ کوشش کریں کہ سونے سے پہلے کم از کم دو رکوع ضرور پڑھیں اس سے آپ کو نماز فجر کے لئے اٹھنے میں بڑی مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ رات کو سونے سے پہلے ایسے اذکار، جو کسی صحیح حدیث میں بیان ہوئے ہوں،  کا ورد بھی اپنی روزانہ کی روٹین کا حصہ بنائیں۔  کوشش کیجیے کہ سونے کے وقت کی مسنون دعائیں کو ترجمے سمیت کسی ڈائری میں لکھ کر سوتے  وقت اپنے ساتھ رکھیں اور پڑھتے ہوئے ترجمہ پر بھی غور فرمائیے۔ ان شا اللہ ایک یا دو ہفتوں میں یہ اذکار آپ کو ترجمے سمیت مکمل یاد ہوجائیں گے۔سونے کی بعض مسنون دعائیں  اور ان کا ترجمہ یہاں سرخ الفاظ میں دیا گیا ہے:
حدثنا مسدَّد: حدثنا عبد الواحد بن زياد: حدثنا العلاء بن المسيَّب قال: حدثني أبي، عن البراء بن عازب قال:  كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أوى إلى فراشه نام على شقه الأيمن، ثم قال: (اللهم أسلمت نفسي إليك، ووجهت وجهي إليك، وفوضت أمري إليك، وألجأت ظهري إليك، رغبة ورهبة إليك، لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك، آمنت بكتابك الذي أنزلت، ونبيك الذي أرسلت). وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (من قالهن ثم مات تحت ليلته مات على الفطرة).
حضرت براء بن عاذب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر تشریف لاتے تو دائیں کروٹ پر لیٹتے اور عرض کرتے: ’’اے اللہ! میں آپ کا اپنی جان سمیت فرمانبردار بنتا ہوں۔ اپنے چہرے کا رخ آپ ہی کی جانب کرتا ہوں۔ اپنے معاملے کو آپ کی طرف سپرد کرتا ہوں۔ اپنی کمر کو  آپ [کے دین کی] خدمت کے لیے تیار کرتا ہوں۔ آپ کی جانب رغبت اور خوف رکھتا ہوں کہ آپ کے سوا نہ تو کوئی ایسا ہے جس کے سپرد خود کو کیا جائے اور نہ ہی آپ کے سوا کوئی نجات دینے والا ہے۔ میں آپ کی نازل کردہ کتاب اور آپ کے بھیجے ہوئے نبی  [کی نبوت] پر پر ایمان رکھتا ہوں۔ ‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے یہ بات کہی اور پھر رات میں وفات پا گیا تو وہ فطرت پر فوت ہوا۔‘‘(بخاری۔ کتاب الدعوت۔ حدیث 5956)
حدثنا عثمان بن أبي شيبة وإسحاق بن إبراهيم - واللفظ لعثمان - (قال إسحاق: أخبرنا. وقال عثمان: حدثنا) جرير عن منصور، عن سعد بن عبيدة. حدثني البراء بن عازب؛  أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال "إذا أخذت مضجعك فتوضأ وضوءك للصلاة. ثم اضطجع على شقك الأيمن. ثم قل: اللهم! إني أسلمت وجهي إليك. وفوضت أمري إليك. وألجأت ظهري إليك رغبة ورهبة إليك. لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك. آمنت بكتابك الذي أنزلت. وبنبيك الذي أرسلت. واجعلهن من آخر كلامك. فإن مت من ليلتك، مت وأنت على الفطرة".
برا بن عازب رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب آپ بستر پر لیٹیں تو نماز کی طرح کا وضو کر کے دائیں کروٹ پر لیٹیں اور عرض کیجیے: ’اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ آپ کی جانب جھکا دیا ہے اور اپنے معاملے کو آپ کے سپرد کر دیا ہے اور خود کو کو آپ کی رغبت اور خوف کے لیے کمر بستہ کر لیا ہے۔ آپ کے سوا نہ تو کوئی اعتماد کا سہار ا ہے اور نہ آپ [کے عذاب سے] نجات دینے والا۔  میں آپ کی نازل کردہ کتاب پر ایمان لایا اور آپ کے بھیجے نبی پر بھی۔‘ اس دعا کو [سونے سے پہلے] اپنا آخری کلام بنا لیجیے۔ اگر آپ اس رات فوت ہو گئے تو آپ دین فطرت پر ہوں گے۔‘‘  (مسلم۔ کتاب الذکر و الدعا و التوبہ و الاستغفار۔ حدیث 2710)
حدثنا أبو نُعَيم: حدثنا سفيان، عن عبد الملك بن عمير، عن ربعي بن حراش، عن حذيفة قال:  كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أراد أن ينام قال: (باسمك اللهم أموت وأحيا). وإذا استيقظ من منامه قال: (الحمد الله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور).
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو عرض کرتے: ’’اے اللہ! میں آپ کے نام ہی کے ساتھ مرتا اور جیتا [یعنی سوتا اور جاگتا ] ہوں۔‘‘ جب آپ نیند سے بیدار ہوتے تو فرماتے: ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں موت کے بعد زندگی دی اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ ‘‘ (بخاری۔ کتاب الدعوت۔ حدیث 5965۔ مسلم، حدیث 2711)
حدثنا عقبة بن مكرم العمي وأبو بكر بن نافع. قالا: حدثنا غندر. حدثنا شعبة عن خالد. قال: سمعت عبدالله بن الحارث يحدث عن عبدالله بن عمر؛ أنه أمر رجلا، إذا أخذ مضجعه، قال "اللهم! خلقت نفسي وأنت توفاها. لك مماتها ومحياها. إن أحييتها فاحفظها، وإن أمتها فاغفر لها. اللهم! إني أسألك العافية" فقال له رجل: أسمعت هذا من عمر؟ فقال: من خير من عمر، من رسول الله صلى الله عليه وسلم.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو تلقین کی کہ جب وہ سونے کے لیے لیٹیں تو کہیں: ’’اے اللہ! آپ نے میری جان کو تخلیق فرمایا اور آپ  ہی اسے موت دیں گے۔ اس کی موت اور زندگی آپ کے ہاتھ ہی میں ہے۔  اگر آپ اسے زندگی دیجیے تو اس کی حفاظت فرمائیے اور اگر موت دیجیے تو اسے معاف کر دیجیے۔ اے اللہ! میں آپ سے عافیت مانگتا ہوں۔‘‘
ان صاحب نے ابن عمر سے پوچھا: ’’کیا آپ نے اسے حضرت عمر سے سنا ہے؟‘‘ انہوں نے فرمایا: ’’میں نے ان سے سنا ہے جو عمر سے بہتر ہیں، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ ‘‘ (مسلم۔ کتاب الذکر و الدعا و التوبہ و الاستغفار۔ حدیث 2712)
سوتے جاگتے ہمیں ان دعاؤں کو سمجھ کر پڑھنا چاہیے۔
۳۔ نماز فجر کی فضیلت و اہمیت یاد کیجیے
کتب احایث میں نماز فجر کو باجماعت وقت پار ادا کرنے کی جو فضیلت اور اجر و ثواب بیان کیا گیا ہے اسے اپنے ذہن میں رکھیے۔ان تمام باتوں کا اہتمام  کرلینے کے بعد اب  آخری کام  نماز فجر کے لیے دعا کا اہتمام کرنا ہے۔ کوئی بھی انسان اللہ کی مدد اور توفیق کے بغیر کوئی بھی عمل نہیں کرسکتا ۔  لہذٰا اب اللہ تعالٰی سے مدد کی درخواست کیجیے کہ وہ آپ کو نماز فجر باجماعت ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ انسان کے دماغ میں ایک لمحے کے لئے بھی یہ خیا ل نہ آے کہ وہ نیکی کا کوئی کام اپنے بل بوتے پر بھی کرسکتا ہے اور ہر عمل کے لئے اسے ہر وقت اللہ کی مدد درکار ہے اور یہ کہ اس کا نما ز فجر کے لئے اٹھنا بھی اللہ کی مدد اور توفیق کے ساتھ ہی ہوگا جس میں اس کا کوئی کمال نہیں۔
ابھی تک ہم نے یہاں جو بھی طریقے بیان کیے ہیں وہ سب قرآن و سنت سے ماخوذ ہیں البتہ اب ہم یہا ں کچھ دوسرے عملی طریقے جو نماز فجر کے لئے اٹھنے کے لئے انتہائی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
۴۔ کسی قریبی عزیز یا دوست کی مدد حاصل کریں
یہ صبح کی نما کے لئے اٹھنے کا سب سے موثر طریقہ ہے ۔ اپنے کسی قریبی دوست، رشتہ دار،ماں باپ یا شریک حیات کو آپ کو صبح اٹھا نے کا کہیں اور اگر آپ ان سے پہلے اٹھ جائیں تو انہیں بھی نماز فجر کے لئے اٹھا ئیے  اور اپنی نماز کے ساتھ ساتھ ان کی نماز کا بھی اجر حاصل کیجیے۔
۵۔ الارم ڈیوائس کو کسی مناسب جگہ رکھیں
ایک اور نہایت موثر طریقہ جو نماز فجر کے لئے بیدار ہونے کےلئے نہایت مددگار ہوسکتا ہے ، وہ الارم والی گھڑی یا موبائل فون کو کسی ایسی جگہ رکھنا ہے جو آپ کے بستر سے قدرے دور ہو اور جس کو بند کرنے کے لئے آپ کو بستر  کو چھوڑ کر اٹھ کر جانا پڑے۔ میرے لئے صبح کے وقت بیدار ہونے کا ایک نہایت موثر طریقہ،  جو ہمیشہ کام کرتا ہے وہ یہ ہے کہ میں اپنے الارم کو باتھ روم میں  الارم کو بیسن  کے ساتھ شیلف پر رکھ دیتا ہوں اور جب میں الارم بند کرنے کے لئے صبح اٹھتا ہوں تو اپنے آپ کو بیسن کے سامنے پاتا ہوں،  بس اب کیا مزید سونا  اب وضو کیا اور نماز کے لئے تیاری شروع۔
۶۔ نماز سے تھوڑی دیر پہلے جاگیے
نماز فجر سے صرف اتنی دیر پہلے جاگنے کی کوشش کریں جس میں آپ وضو کرکے مسجد پہنچیں اور باجماعت نماز میں شامل ہوسکیں ۔ عمومی طور پر اگر آپ  تکبیر اولیٰ سے بس 10-15 منٹ پہلے اٹھیں تو بآسانی نماز میں شامل ہو سکتے ہیں۔
۷۔ دوپہر کو قیلولہ کیجیے
دوپہر کو تھوڑی دیر کے لئے قیلولہ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سلف صالحین سے بھی ثابت ہے اور  یہ بھی صبح بیداری کے لئے نہایت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔  اس کے لئے بس تھوڑی سی پریکٹس کی ضرورت ہوگی لیکن اگر اس عادت کو اختیار کر لیا جائے تو یہ صبح بیداری کے لئے بڑی مددگار ثابت ہوگی۔
۸۔ اپنے آپ کو انعام دیں یا جرمانہ عائد کریں
اپنے ٹارگٹ خود سیٹ کیجیے اور اپنی مدد خود کرنا سیکھیے۔ اگر یہ سب اوپر بیان کئے گئے طریقے کارگر ثابت ہوتے ہیں تو اپنے آپ کو کوئی انعام  دیجیے اور اپنی کامیابی اور اس معاملے میں خوشی کو سیلی بریٹ کیجیے۔ اگر کبھی آپ  نماز فجر کے لئے اٹھنے میں ناکام رہیں تو اپنے آپ پر جرمانہ عائد کیجیے۔ مثال کے طور پر ایک مخصوص رقم اللہ تعالی کی راہ میں کسی مستحق غریب (پروفیشنل بھکاری نہیں) کو دیجیے اور اگلی صبح نئے جذبے کے ساتھ صبح سویرے بدار ہونے کی تیاری کیجیے۔

Tuesday, October 14, 2014

ہمارا تعلیمی نظام



ارسطو کے نزدیک تعلیم کے تین بنیادی مقاصد ہیں
۱۔ زندگی کے مقصد purpose of life ور کائنات کی حقیقت  کو جاننا
۲۔ اپنے اخلاق کو سنوارنا اور بہتر انسان بننا
۳۔ تعلیم کے ذریعے دنیاوی زندگی میں آگے بڑھنا اور ترقی کرنا
اب موجودہ دور میں ہمارے تعلیمی اداروں میں رائج  نظام تعلیم میں پہلے دو  مقاصد تو سرے سے ہی نہیں پائے جاتے یعنی  ہمارےطالب علم کونہ تو  یہ بتایا جاتا ہے کہ اس کی زندگی کا  آخر مقصد کیا ہے اور  اور نہ ہی اس  کو اخلاقیات کے حوالے سے کوئی تعلیم  دی جاتی  ہے تاکہ وہ ایک بہتر انسان بن سکے اور معاشرے میں کوئی مفید کردار ادا کرسکے۔  البتہ ان تعلیمی اداروں میں صرف تیسرے مقصد پر توجہ دی جاتی ہے کہ  کیسے اس تعلیم کے ذریعے دنیاوی زندگی میں آگے بڑھا جائے اور زیادہ پیسے کمائے جائیں نتیجتاً ہمارے یہ تعلیمی ادارے  ایسے افراد پیدا کررہے ہیں جن کے نزدیک  زندگی کا واحد مقصد اسی دنیا کی زندگی اور یہیں کی ترقی و خوشحالی ہے یعنی ایسے مادہ پرست  Materialistic لوگ جو اپنی زندگی کا واحد مقصد اسی دنیا کی زندگی کو بنائے ہوتے ہیں  اور اخلاقی لحاظ سے حد درجہ  متکبریعنی  Ego-Centric 
دراصل اسلام  کا اپنا  ایک نظریہ حیات
 Worldview  ہے جس میں اصل اہمیت دنیا کی زندگی کی بجائے آخرت کو حاصل ہے  جبکہ موجودہ سرمایہ دارانہ Capitalistic نظام کی بنیاد پر قائم ان تعلیمی اداروں میں جو تعلیم دی جاتی ہے اس کا اصل مقصد اسی دنیا کی مادی زندگی تک ہی محدود ہے۔     
دوسری طرف ہمارے دینی مدارس  کی اکژیت کا یہ معاملہ ہے کہ وہاں ایسے علماء پیدا کئے جاتے ہیں جن کے پاس دین کا علم اور فہم تو ہوتا ہے ہے لیکن ان میں تنگ نظری اور سخت گیری Rigidness  حد درجہ پائی جاتی ہے اوروہ  اپنے اپنے مسلک کی ترویج و اشاعت کو ہی دین کی خدمت سمجھتے ہیں ۔ ایسے علما ء کا تمام تر زور صرف اسلام کے فقہی معاملات پر ہوتا ہے جبکہ دین کے سیاسی، معاشی۔ معاشرتی اور نظریاتی پہلو   اُن کی نظروں سے عموماً     اوجھل ہوتے ہیں۔
اس لئے یہاں ایسے  تعلیمی نظام کی ضرورت  ہے جس میں دنیاوی کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کا بھی انتظام ہو ۔ جہاں پر کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والے طالب علم کو کم از کم دین کے مبادیات مثلاً قرآن، حدیث، فقہ، تفسیر ، اصول حدیث اور اصول تفسیر سے آگاہی ضرور ہو اور جن کے سامنے اسلام کا نظریہ حیات واضح ہو اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ایک طالب علم بھی دین کا علم حاصل کرنے کے لئے systematic study ویسے ہی کرے جیسے وہ دیگر علوم کی تحصیل کے لئے کرتا ہے مگر افسوس آج کا مسلمان تو دین کو موروثی سمجھتا ہے بس باپ دادا سے ورثے میں مل گیا ہے بس یہی کافی ہے چاہے بچپن میں ناظرہ قرآن ختم کرلینے کے بعد قرآن مجید کو کبھی دوبارہ کھول کر بھی نہ دیکھا ہو۔