Friday, November 7, 2014

ہمارے تعلیمی ادارے اور مغربیت

کچھ عرصہ پہلے لاہور کے ایک انگلش میڈیم سکول میں او لیول کے بچوں کو اسلامیات پڑھانے کا اتفاق ہوا مگر یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ زیادہ تر بچوں کو صحیح طرح آیۃ الکرسی بھی نہیں پڑھنی آتی اور اُس سے بھی بڑھ کر حیرانی کی بات یہ کہ آکسفورڈ یونیورسٹی نے ایسے بچوں کے لئے نصاب میں جنگ جمل اور جنگ صفین جیسے واقعات کو شامل کررکھا ہے جن کو دین کی مبادیات کے بارے میں بھی علم نہیں۔
غالباً یہ وہی مستشرقین کا مرتب کردہ اور Orientalist approach کے تحت وضع کردہ اسلامیات کا نصاب ہے جسے پڑھنے والے مسلمان طالب علم قرآن، حدیث، فقہ، اصول فقہ، شریعت، عشرہ مبشرہ جیسی اصطلاحات سے تو ناواقف رہتے ہیں البتہ جنگ جمل، جنگ صفین، شیعان علی و شیعان عثمان اور مشاجرات صحابہ کے بارے میں اُن بچوں کی معلومات میں خوب اضافہ کیا جاتا ہے۔ اور اُوپر سے اگر اس ملک کے پوش سکولوں میں او۔لیول اسلامیات پڑھانے والے اساتذہ کی ایک خاطر خواہ تعداد رافضیت سے تعلق رکھتی ہو تو پھر سونے پر سہاگہ ہوگیا کیونکہ پھر ایسے اساتذہ کو صحابہ کرام ؓ اور تاریخ اسلام کے بارے میں کیچڑ اچھالنے اور اُن معصوم بچوں کے ذہنوں کو اسلام کی اُن جلیل القدر ہستیوں کے بارے میں پراگندہ کرنے کا بھرپور موقع میسر آتا ہے ۔
پھر انہی سکولوں سے پڑھ کر نکلنے والے مسلمان بچے آپ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ جناب آپ کس اسلام کی تاریخ کی بات کرتے ہیں؟؟ اسلام کی پوری تاریخ تو بنو امیہ اور بنو عباس کی باہمی لڑائیوں سے بھری پڑی ہے۔ محمد بن قاسم تو معاذ اللہ ایک لٹیرا تھا جو راجا داہر کی دولت لوٹنے یہاں آیا تھا اور صلاح الدین ایوبی وہ تو خود سیکولر تھا۔ اور سلطان محمود غزنوی وہ تو ہندوستان آیا ہی اس لئے تھا کہ اس کی نظریں سومنات کے مندر کے سونے و جواہرات پر تھی۔ ٹھیک ہے عبد الرحمٰن الداخل نے اندلس میں اسلامی سلطنت قائم کی تھی مگر اسے اسلام سے تو کوئی دلچسپی نہیں تھی اور جہاں تک سائنس کا معاملہ ہے تو اول تو مسلمانوں کی اس میں کوئی خاطر خواہ contribution ہی نہیں اور جن مسلمان سائنسدانوں نے کچھ کام بھی کیا وہ درحقیقت دین بیزار اور لبرل تھے۔ اچھا ساری باتیں چھوڑیں آپ مجھے پوری اسلامی تاریخ میں کوئی ایک بڑی شخصیت دکھلا دیں۔
وہ الگ بات ہے کہ اسلام کی پوری تاریخ پر عبور رکھنے والے مسلماںوں کے ان بچوں نے شاید کبھی تاریخ ابن کثیر، تاریخ طبری، تاریخ ابن ہشام یا اس جیسی دیگر تاریخ اسلامی کی کُتب کا نام تک نہیں سنا ہوتا کیونکہ اُن کے نزدیک تو اولاً یہ کتابیں تو اردو میں لکھی گئی ہیں اور اْردو کوئی زبان تھوڑی ہے۔ اس اُردو نے تو اگلے سو سالوں میں ویسے ہی دنیا سے ختم ہوجانا ہے اوراس کے علاوہ مسلمان مورخین بڑے جانبدار biased ہوتے ہیں ہاں البتہ Orientalists کی تاریخ اسلام کے بارے میں لکھی گئی کتب کافی حد تک معتبر reliable ہوتی ہیں۔
کسی بھی قوم کے لئے اس سے بڑھ کر فکری غلامی intellectual slavery نہیں ہو سکتی کہ اگر اس نے اپنی تاریخ کا بھی مطالعہ کرنا ہو تو وہ اپنوں کی کتابوں کی بجائے غیروں کی کتابوں سے کرے۔

انسانیت کا اصل ہدف

امام ابن  حزم اپنی مشہور تصنیف ‘الاخلاق  و السیر فی مداواۃ النفوس’ میں لکھتے ہیں کہ
میں نے اس چیز کو تلاش کرنے کی بڑی کوشش و جستجوکی ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے تمام انسان کوشش کررہے ہیں اور بڑی سوچ بچار کے بعد میں اسی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ وہ ایک ہی چیز ہے اور وہ ہے ‘غموں سے نجات’۔
جب میں نے اس پر مزید غور و فکر کیا  تو معلوم ہوا کہ ہر انسان   چاہے وہ عالم ہو،جاہل ہو، نیک ہو یا  بد ہو، سب اس میں  یکساں ہیں اور  ان کی تمام تر محنت، جدوجہد اور کوشش صرف اسی ایک مقصد کے لئے ہے کہ وہ اپنے آپ کو غموں، فکروں، پریشانیوں اور تفکرات سے دور رکھ سکیں البتہ لوگ اس کے لئے مختلف طریقے اختیار کرتے ہیں  اور زیادہ تر لوگ اس سلسلے میں سیدھے راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں اور بہت تھوڑی تعداد میں لوگ ایسے ہیں  جو  اپنے آپ کو ان ‘تفکرات سے نجات’ حاصل کرنے کے لئے  راہ راست پر ہیں۔
چنانچہ لوگ دولت کی خاطر اسی لئے تگ و دو کرتے ہیں تاکہ وہ اس کے ذریعے اپنے دلوں سے غربت کی پریشانیوں کو دور کریں۔ شہرت کے متلاشیوں نے شہرت کی طلب اس لئے کی  کہ وہ اس کے ذریعے اپنے احساس محرومی کو ختم کرسکیں۔ لذتوں کے متلاشیوں نے اسے اس لئے تلاش کیا کہ وہ ان کے ذریعے اپنےدلوں پر چھائی ہوئی فکر کا ازالہ کرسکیں۔  علم کی راہ میں نکلنے والے بھی اسی لئے اٹھے کہ  وہ علم کے ذریعے اپنی فکر کو دور کرسکیں۔طرح طرح کے اعلٰی کھانے  اور مشروبات پینے والے، شادی بیاہ کرنے والے، ورزش کرنے اور کھیلیں کھیلنے والے، تنہائی اختیار کرنیوالے، سب لوگوں نے یہ کام اس لئے کئے کہ وہ فکروں اور پریشانیوں کو اپنے آپ سے ہٹا سکیں۔
امام ابن حزم رحمہ اللہ مزید لکھتے ہیں کہ جب اللہ رب العزت نے مجھے اس بات تک پہنچا دیا کہ  اس دنیا میں ہر انسان صرف اسی ‘ذہنی سکون’ کو حاصل کرنے کے لئے تگ و دو کررہا ہے تو پھر مجھے اس بات کی فکر ہوئی کہ آخر اس کی اصل   راہ ہے کیا؟       بڑے غورو حوض کے بعد میں  اس نتیجے پر پہنچا کہ وہ راستہ  اللہ کی رضا کی خاطر آخرت کے لئے کام‘ کرنے کے علاوہ اور کوئی نہیں۔
میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ جس شخص کی زندگی کا مقصد محض آخرت کے لئے عمل کرنا ہو تو ایسا شخص اس راہ میں اگر کسی ناپسندیدہ چیز میں مبتلا ہوجائے تو وہ غم زدہ ہونے کی بجائے مزید خوش ہوتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس  پریشانی کو اپنے مقصد کے حصول کی خاطر اٹھا رہا ہےاس لئے  یہ پریشانی اس کے لئے مزید خوشی کا باعث ہوتی ہے۔
مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ اگر ایسے شخص کو اللہ کی رضا کی خاطر آخرت کے لئے کوشش و تگ و دو  کرنے کی راہ میں لوگوں کی طرف سے کوئی تکلیف یا دکھ پہنچایا جائے تو وہ  اس کام میں مزید لذت اور سرور محسوس کرتا ہے اور اگر وہ تھک جائے تو وہ  فرحت و خوشی محسوس کرتا ہے
گویا اس دنیا وی زندگی میں صرف اور صرف اللہ کی رضا کی خاطر اخروی زندگی کے لئے کام کرنے والاشخص  ہی ایسا واحد فرد ہوتا ہے جو مسلسل اور دائمی خوشی میں رہتا ہے  جبکہ باقی تمام لوگوں کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔