اللہ رب العزت کی ہمیشہ سے یہی سنت رہی ہے کہ وہ عین کفر و الحاد اور شر ک کے بطن میں اپنے ایسے بندے پیدا کرتا ہے جو اسی کفر و شرک کے خلاف بغاو ت کے علم لے کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ تاکہ دنیا والوں پر یہ حجت تمام ہوجائے کہ اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں پر اپنے دین کا اتباع نہ کرنے کے لئے کوئی عذر باقی نہیں چھوڑا۔ چنانچہ کسی دور میں آزر کے گھر ابراہیم پیدا ہوتا ہے تو کبھی فرعون کے گھر میں آسیہ علیہ السلام موسیٰ ؑ پر ایمان لے آتی ہیں اور خود رسول اللہ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے جو اپنے دور میں شرک اور بت پرستی کا سب سے بڑا مرکز تھا اور پھر 20ویں صدی میں نیویارک کے ایک یہودی گھرانے میں مارگریٹ مارکس Margaret Marcus کے نام سے ایک ایسی لڑکی پیدا ہوتی ہے جو اس دور میں مغربیت سے مرعوب اور مغربی طوفان میں بہتے چلے جارہے مسلم نوجوانوں پر اللہ کی حجت تمام کرتی ہوئی نظر آتی ہے ایک ایسی یہودی لڑکی جو پیدا تو مغرب میں ہوئی لیکن اس کو مغربی لباس سے سخت نفرت تھی کیونکہ اسے اس مغربی لباس میں عورت کی تذلیل نظر آتی تھی جس کو مغربی اقدار سے نفرت تھی کیونکہ وہ خدا بیزاری پر مبنی ہیں۔ ایک ایسا جنسیت زدہ مغربی معاشرہ جہاں نوجوانی تک پہنچتے پہنچتےزیادہ تر لڑکیاں جنسی تجربات سے گزر چکی ہوتی ہیں وہاں یہ ایک ایسی لڑکی بھی تھی جس نے کسی کو بھی اپنا دوست نہیں بنایا۔ جس کو جدید طرز تعمیر architecture سے نفرت تھی کیونکہ اس کو یہ بلندو بالا عمارتیں روحانیت سے خالی نظر آتی ہیں۔
مغرب میں رہنے والی ایک ایسی یہودی لڑکی جو ابھی تک حلقہ بگوش اسلام نہیں ہوئی لیکن پھر بھی اپنی تحریروں میں ان تمام نام نہاد جدت پسند مسلمان علماء اور مفکرین کا بھرپور رد کرتی تھی جو اسلام کی ایک ایسی تعبیر پیش کرنا چاہتے ہیں جو مغربی تہذیب و اقدار سے ہم آہنگ ہو۔ ایک ایسے دور میں جہاں خود بہت سارے مسلمان مفکرین سیکولرازم کے داعی بن کر یہ بات ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ اسلام بھی دیگر مذاہب کی طرح افراد کا ذاتی معاملہ ہے وہاں مریم جمیلہ صاحبہ نے اپنے قبول اسلام سے پہلے ہی اپنی تحریروں کے ذریعے ان کا بھرپور رد کیا وہ اسلام کو بطور دین زندگی کے ہر شعبے میں اختیار کرنے کی پرجوش حامی تھیں۔ بے شک میر ا رب جس سے چاہتا ہے اپنے دین کا کام لے لیتا ہے۔
مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ (مارگیٹ مارکس) کے درمیان مراسلت نامی کتاب پڑھنے کا اتفاق ہوا تومحترمہ مریم جمیلہ کے بارے میں دل کی گہرائیوں سے یہ آواز نکلی کہ ایسا ہوتا ہے سلیم الفطرت انسان جو دنیا کے کسی بھی کونے میں کیوں نہ پیدا ہوا ہو لیکن بالآخر وہ حضرت سلمان فارسی ؓ کی طرح دین اسلام کو پا ہی لیتا ہے۔ اور ناصرف انہوں نے اسلام قبول کیا بلکہ اس عظیم صحابی رسولﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ہزاروں میل کا سفر ہجرت طے کرکے پاکستان بھی آ گئیں اور پھر جہاں مولانا مودودی رحمہ اللہ نے کہا وہاں جماعت کے ایک کارکن کی دوسری بیوی بننے پر خوشی خوشی راضی ہوگئیں۔اور وہ بھی کتنے اعلیٰ کردار کے لوگ تھے کہ محترمہ مریم جمیلہ لکھتی ہیں کہ وہ اپنی بڑی سوکن کو آپا کہہ کر بلایا کرتی تھیں اور وہ آپا بھی ان سے نہایت محبت کرنے والی تھیں۔ ان کی وفات پر لکھے جانے والے ایک کالم نگار کے بقول انہوں نے اپنے خاوند کو وفات سے قبل یہ وصیت کی تھی کہ انہیں ان کی سوکن کی قبر کے پہلو میں دفن کیا جائے۔ یہ ہوتے ہیں دین کی بنیاد پر قائم ہونے والے رشتے ۔
مریم جمیلہ صاحبہ کا صرف ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا کہ جس میں وہ بوڑھی خاتون اتنے زبردست حجاب میں ملبوس ہیں کہ ہمارے بڑے بڑے دین دار ایسے لباس کو دقیانوسی کہہ ڈالیں۔
مولانا مودودی رحمہ اللہ نے بھی نہایت خوبصورتی سے اس مراسلت میں اسلام کا تعارف پیش کیا ہے۔ یہ کتاب بلاشبہ ہمارے ان طبقوں کے لے دعوت غورو فکر ہے جو مسلم معاشروں میں مغربیت اور سیکولرازم کے داعی ہیں۔ چند دن پہلے ان کے خاوند یوسف خان صاحب بھی قضائے الٰہی سے وفات پاگئے۔
سبحان اللہ وہ سب واقعی بڑے عظیم لوگ تھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کی قبروں پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔
No comments:
Post a Comment